واشنگٹن (9 جولائی 2026) : امریکی فوج نے صدر ٹرمپ کی خاص ہدایت پر ایران کیخلاف بھرپور فضائی کارروائی کا آغاز کردیا۔
اس حوالے سے امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف مزید حملے شروع کر دیے ہیں، ہم آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنا رہے ہیں۔
سینٹ کام کے مطابق آبنائے ہرمز میں خطرہ بننے والے اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، ایران نے بحری جہازوں پر بلاجواز حملے کیے، اس کی حالیہ جارحیت کا جواب دیا جارہا ہے۔
امریکی عہدیدار نے ایگزیوس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آبنائے ہرمزکے اطراف ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جارہا ہے، پاسدارانِ انقلاب کے ساحلی ریڈار اہداف میں شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بحری جہاز شکن میزائلوں کے ٹھکانے، فضائی دفاعی نظام اہداف ہیں ، آج کے حملوں کا دائرہ کار گزشتہ دنوں میں کیے گئے حملوں کی نسبت وسیع ہے۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران کے جنوبی علاقوں صوبہ ہرمزگان، بندر عباس اور جزیرہ سیرک میں متعدد دھماکے سنے گئے ہیں، فضائی دفاعی نظام نے بندرعباس کے قریب حملوں کو روکا ہے۔
ایرانی میڈیا کا مزید کہنا ہے کہ دھماکوں کے بعد چاہ بہار شہر میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی، جنوبی ایران کے صوبہ بوشہرمیں بھی دھماکے سنے گئے ہیں۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/4mFhrDE
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں