آسٹریلیا کے جنگلات میں آگ لگی یا لگائی گئی ؟ اہم حقائق سامنے آگئے - نیوز شیوز

نیوز شیوز

یہ ویب سائٹ معیار پر مبنی روزانہ کی خبریں پیش کرتی ہے۔ خبریں قومی ، بین الاقوامی ، کھیلوں اور شوبز کے بارے میں ہیں۔ لہذا حتمی ، توثیق شدہ اور معیاری مواد کیلئے ملاحظہ کریں۔

Breaking

Home Top Ad

Responsive Ads Here

جمعرات، 1 جنوری، 2026

آسٹریلیا کے جنگلات میں آگ لگی یا لگائی گئی ؟ اہم حقائق سامنے آگئے

ساؤتھ ویلز : آسٹریلیا کے ساحلی علاقے میں خوفناک آتشزدگی سے درجن سے زائد مکانات جل کر خاکستر ہوئے، سوشل میڈیا پر آگ سے متعلق خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کی ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے وسطی ساحلی علاقے میں دسمبر کی شدید گرمی کے دوران لگنے والی جنگلاتی آگ کے نتیجے میں ایک درجن سے زائد مکانات تباہ ہوگئے۔

جس کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے، جن میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ آگ اسمارٹ میٹرز (ڈیجیٹل بجلی کے میٹرز) یا لیزر ہتھیاروں کے ذریعے لگائی گئی ہے کیونکہ آگ سے مبینہ طور پر قریبی درخت اور پودے محفوظ رہے۔

آسٹریلیا کے جنگلوں میں لگنے والی آگ (بش فائرز) ایک عام مگر تباہ کن قدرتی آفت ہے، جو خاص طور پر گرم اور خشک موسم میں شدت اختیار کرتی ہے، جس میں یوکلپٹس کے درخت (جن میں تیل ہوتا ہے) اور ان کی لٹکتی چھال آگ کو تیزی سے پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اور اس آگ سے نہ صرف بڑے پیمانے پر جنگلات اور املاک کو نقصان پہنچتا ہے، بلکہ لاکھوں جانور بھی ہلاک ہو جاتے ہیں جیسا کہ 2019-2020کی آگ نے شدید تباہی مچائی تھی جس کی تحقیقات بھی کی گئیں تھیں۔

 false fire

رپورٹ کے مطابق حالیہ لگنے والی آگ سے متعلق پولیس کی تحقیقات میں اس بات کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا کہ آگ جان بوجھ کر لگائی گئی ہو۔ حکام کے مطابق آگ کے دوران بڑی تعداد میں جھاڑیاں جلیں جبکہ گھروں تک پہنچنے والی آگ جھاڑیوں سے اٹھنے والے شعلوں اور چنگاریوں کے باعث پھیلی۔

ایک آسٹریلوی صارف کی جانب سے شیئر کی گئی پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آگ ایک گھر سے دوسرے گھروں تک جا رہی ہے جبکہ آس پاس کے درخت اور سبزہ زیادہ تر محفوظ ہے۔

پوسٹ میں یہ بھی عندیہ دیا گیا کہ اسمارٹ پاور میٹرز یا ڈائریکٹڈ انرجی ویپنز (اعلیٰ توانائی کے لیزر ہتھیار) آگ لگنے کا ذریعہ ہوسکتے ہیں جبکہ حکومت اس تباہی کی وجہ موسمیاتی تبدیلی (کلائمٹ چینج) کو قرار دے رہی ہے۔

یہ پوسٹ 400 سے زائد بار شیئر کی گئی، جس میں ایک جلتے ہوئے مکان کی تصویر بھی شامل تھی، جس پر لکھا تھا “NSW wildfires destroy homes, but skip vegetation?” (نیو ساؤتھ ویلز میں جنگل کی آگ نے گھر تو جلا دیے،لیکن پودوں کو کیوں چھوڑ دیا؟)

ایسی ہی تصویر اور دعوے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک اور ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر آسٹریلوی صارفین کے علاوہ کینیڈا اور امریکہ میں بھی بڑے پیمانے پر شیئر کیے گئے۔

ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ اسمارٹ میٹرز کو جلایا جا رہا ہے تاکہ اسمارٹ سٹیز کی راہ ہموار ہو! جبکہ ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ یہ یقینی طور پر ڈائریکٹڈ انرجی ویپن ہے، آگ خشک گھاس اور درختوں کو چھوڑ کر گھروں کو نہیں جلا سکتی۔

نیو ساؤتھ ویلز رورل فائر سروس کے ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ دعویٰ درست نہیں کہ آگ نے خشک پودوں اور گھاس کو چھوڑ دیا، انہوں نے بتایا کہ آگ کا پھیلاؤ 129 ہیکٹر رقبے پر تھا۔

ریورس امیج سرچ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصویر دراصل 7 دسمبر کو اسکائی نیوز کی جانب سے شائع کی گئی کوولے وونگ کی جنگلاتی آگ کی ویڈیو سے ملتی جلتی ہے، جس میں تقریباً 15 سیکنڈ کے مقام پر ایک جلتا ہوا مکان دکھایا گیا ہے۔

ویڈیو کے بعد کے مناظر میں مکان کے ساتھ موجود جلی ہوئی زمین اور درختوں کی جھڑی ہوئی پتیوں کے واضح آثار بھی نظر آتے ہیں۔



from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/mv05IQH

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں