ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کو ’’دوستانہ‘‘ قرار دے دیا - نیوز شیوز

نیوز شیوز

یہ ویب سائٹ معیار پر مبنی روزانہ کی خبریں پیش کرتی ہے۔ خبریں قومی ، بین الاقوامی ، کھیلوں اور شوبز کے بارے میں ہیں۔ لہذا حتمی ، توثیق شدہ اور معیاری مواد کیلئے ملاحظہ کریں۔

Breaking

Home Top Ad

Responsive Ads Here

اتوار، 3 مئی، 2026

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کو ’’دوستانہ‘‘ قرار دے دیا

واشنگٹن (03 مئی 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی انتہائی دوستانہ ہے، کسی کو نقصان نہیں پہنچایا جا رہا۔

ہفتے کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کو ایک ’’نہایت دوستانہ‘‘ اقدام قرار دیا، اور کہا کہ یہ کوئی چیلنج نہیں ہے نہ ہی ایران کے ساتھ دشمنی ختم ہو جانے کے دعوے کے خلاف ہے۔

امریکی ریاست فلوریڈا میں ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہ جب بحری ناکہ بندی اب بھی برقرار ہے تو وہ دشمنی کے خاتمے کا اعلان کیسے کر سکتے ہیں، ٹرمپ نے کہا ’’یہ ایک بہت دوستانہ ناکہ بندی ہے۔ کوئی بھی اسے چیلنج نہیں کر رہا۔ بالکل کوئی نہیں۔‘‘

جب ان سے نئے حملوں کے امکان کے بارے میں پوچھا گیا تو ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران بدسلوکی کرے گا تو واشنگٹن دوبارہ فوجی کارروائی شروع کر سکتا ہے۔ انھوں نے کہا ’’ایران نے غلط رویہ رکھا تو حملے دوبارہ شروع ہونے کے امکانات موجود ہیں۔‘‘

اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر ایک علیحدہ پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ جلد ہی ایران کی جانب سے جنگ ختم کرنے کے لیے پیش کیے گئے منصوبے کا جائزہ لیں گے، تاہم انھوں نے اس کی کامیابی کے بارے میں شکوک کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ انھیں شک ہے کہ یہ ’’قابل قبول‘‘ ہوگا، اور مزید کہا کہ ’’ایران نے گزشتہ 47 برسوں میں انسانیت اور دنیا کے ساتھ جو کچھ کیا ہے، اس کی ابھی تک اتنی بڑی قیمت ادا نہیں کی۔‘‘

ایران جنگ : مڈٹرم انتخابات سے قبل ٹرمپ پر شدید دباؤ، مقبولیت میں نمایاں کمی

ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ماضی کے صدور نے کانگریس سے منظوری لیے بغیر بڑے اقدامات کیے، اور دلیل دی کہ ان اقدامات کو وسیع پیمانے پر ’’غیر آئینی‘‘ سمجھا گیا۔ انھوں نے کہا کسی اور صدر نے منظوری نہیں لی اور میں بھی پہلا نہیں بنوں گا۔ انھوں نے کانگریس میں ڈیموکریٹس اور کچھ ریپبلکنز پر تنقید کی اور کہا کہ وہ مضبوط مذاکراتی پوزیشن کو کمزور کر رہے ہیں۔

امریکی صدر نے جمعہ کے روز کانگریس کو آگاہ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ دشمنی ختم ہو چکی ہے، ایک ایسی جنگ بندی کے بعد جو اپریل کے اوائل سے برقرار ہے۔ انھوں نے لکھا ’’7 اپریل 2026 کو میں نے دو ہفتوں کی جنگ بندی کا حکم دیا تھا۔ اس کے بعد جنگ بندی میں توسیع کی گئی۔ 7 اپریل 2026 کے بعد سے امریکی افواج اور ایران کے درمیان کوئی فائرنگ کا تبادلہ نہیں ہوا۔ 28 فروری 2026 کو شروع ہونے والی دشمنی ختم ہو چکی ہے۔‘‘

جمعہ کو اس بات کے 60 دن مکمل ہو گئے جب ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے بارے میں باضابطہ طور پر کانگریس کو اطلاع دی تھی۔ 1973 کے وار پاورز ایکٹ کے تحت صدر کو 60 دن سے زیادہ دشمنی جاری رکھنے کے لیے کانگریس کی منظوری حاصل کرنا ضروری ہوتی ہے۔



from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/H6v0q7D

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں