مشرق وسطیٰ کی حالیہ صورتحال اور ایران کیخلاف امریکا و اسرائیل کی جنگ کے تناظر میں امریکی عوام کی اکثریت جنگ کے خلاف دکھائی دے رہی ہے جبکہ ٹرمپ کی مقبولیت میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔
ماہرین کے مطابق سیاسی جماعتوں کے درمیان تقسیم بدستور موجود ہے، تاہم عوامی سطح پر اس جنگ کی حمایت نہیں کی جارہی۔
حکمران جماعت ریپبلکن پارٹی کی اکثریت صدر ٹرمپ کی پالیسیوں اور جنگی حکمت عملی کی حمایت کررہی ہے، جبکہ اپوزیشن جماعت ڈیمو کریٹک پارٹی کا مؤقف اس کے برعکس ہے۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام آن مائی ریڈار میں امریکا میں مقیم سینئر صحافی فیض رحمان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اس بات میں کوئی رائے نہیں کہ یہ امریکی جنگ بھی پچھلی جنگوں کی طرح غیر مقبول جنگ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی مقبولیت بھی نمایاں حد تک کم ہوچکی ہے، جس کی شرح تقریباً 34 فیصد تک گرچکی ہے، جو ان کے دورِ اقتدار کی کم ترین سطحوں میں شمار ہوتی ہے۔
فیض رحمان نے کہا کہ امریکی تاریخ میں اس سے قبل بھی صدور کم مقبولیت کے باوجود جنگی حالات میں اپنی پالیسیوں پر قائم رہے ہیں، اس لیے موجودہ صورتحال ابھی اس نہج پر نہیں پہنچی کہ صدر فوری طور پر جنگ کے خاتمے کا اعلان کرنے پر مجبور ہوجائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ اور ان کے قریبی مشیران اس پالیسی پر قائم دکھائی دیتے ہیں کہ موجودہ حکمت عملی کو جاری رکھا جائے گا، امریکی وزیر دفاع سمیت اعلیٰ حکام کے بیانات سے بھی یہی تاثر ملتا ہے کہ حکومت فوری پسپائی کا ارادہ نہیں رکھتی۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ امریکہ کو اس تنازع میں واضح برتری حاصل ہے، تاہم وقت کی کمی ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے اور صدر ٹرمپ کو آنے والے وسط مدتی انتخابات (مڈٹرم الیکشن) سے قبل اس مسئلے کو کسی نہ کسی حد تک حل کرنے کا کافی دباؤ بھی ہے۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/0U4uiPY
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں