تہران (2 مئی 2026): ایران میں اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کیلیے جاسوسی کرنے کے جرم میں دو افراد کو سزائے موت دے دی گئی۔
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یعقوب کریم پور اور ناصر بکر زادہ کی سزائے موت پر ہفتے کی صبح عملدرآمد کیا گیا۔ ایرانی سپریم کورٹ نے ان کی سزا برقرار رکھی تھی جس کے بعد قانونی مراحل مکمل کرتے ہوئے انہیں پھانسی دی گئی۔
مقدمے کی دستاویزات کے مطابق یعقوب کریم پور جولائی 2025 میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کی 12 روزہ جارحیت کے دوران موساد کے افسر کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھا، اس نے کرپٹو کرنسی کے عوض ایران کے حساس مقامات اور مخصوص افراد کی خفیہ معلومات اسرائیل کو فراہم کیں۔
اس نے موساد سے ساؤنڈ بم بنانے کی تربیت لی، بم تیار کیے اور مخصوص علاقوں میں دھماکے کیے۔ دھماکوں کی ویڈیوز اور تصاویر اپنے ہینڈلر کو بھیجیں جو بعد میں اسرائیل کے فنڈڈ چینل ’ایران انٹرنیشنل‘ پر نشر کی گئیں تاکہ ایران کو غیر مستحکم دکھایا جا سکے۔
یعقوب کریم پور نے فوجی چھاؤنیوں کی تصاویر بنائیں اور دیگر افراد کو کرج اور مشہد جیسے شہروں میں اے ٹی ایم کو آگ لگانے جیسی تخریب کاری کے کاموں پر لگایا۔ عدالت نے اسے فساد پھیلانے کے جرم میں سزائے موت سنائی۔
دستاویزات اور شواہد کے مطابق ناصر بکر زادہ نے ملک بھر میں ایران کے کئی حساس انفراسٹرکچر مقامات کا دورہ کیا۔ اس نے نطنز کے یورینیم افزودگی کے مرکز سمیت کئی اہم مقامات کی تصاویر موساد کو فراہم کیں، مخصوص حکام، مذہبی علماء اور مقامی افسران کے بارے میں معلومات بھی دشمن کو فراہم کیں۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/WeVlJUq
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں