واشنگٹن (01 اپریل 2026): امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا اشارہ دے دیا۔
فاکس نیوز کے پروگرام ’’ہینیٹی‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے منگل کو کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے اور مستقبل میں دونوں کے درمیان براہ راست ملاقات بھی ہو سکتی ہے۔ انھوں نے کہا ’’بات چیت جاری ہے، کسی وقت براہ راست ملاقات کا امکان بھی موجود ہے۔‘‘
انھوں نے کہا واشنگٹن کو ایران جنگ کے اختتام کے آثار نظر آ رہے ہیں، جو اب پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، اور اس تنازع کے بعد امریکا کو نیٹو کے ساتھ اپنے تعلقات پر دوبارہ غور کرنا پڑے گا۔ انھوں نے کہا ’’ہمیں اختتام نظر آ رہا ہے۔ یہ آج یا کل نہیں ہوگا، لیکن یہ قریب آ رہا ہے۔‘‘
روبیو نے کہا کہ اس وقت دنیا کا کوئی بھی ملک ایسا نہیں جو ایران کی ایسی مدد کر رہا ہو جو امریکی مشن میں رکاوٹ بنے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایران جنگ کے بعد واشنگٹن کو نیٹو کے ساتھ اپنے تعلقات کا ازسرِنو جائزہ لینا ہوگا، یہ فیصلہ صدر کو کرنا ہے اور وہی اس بارے میں فیصلہ کریں گے۔
اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیں
ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج جلد اپنے تمام مقاصد حاصل کر لے گی، یہ آپریشن غیر معمولی مہارت کے ساتھ انجام دیا جا رہا ہے، اور یہ جدید تاریخ کے بہترین اور کامیاب ٹیکٹیکل فوجی آپریشنز میں شمار ہوگا، ایران کی میزائل صلاحیت صدر ٹرمپ کی کارروائیوں نے روکی، ایران جنگ کے پانچویں ہفتے میں ہم فنش لائن دیکھ سکتے ہیں، فنش لائن قریب ہے۔
واضح رہے کہ یہ جنگ 28 فروری کو اس وقت شروع ہوئی جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا۔ اس کے جواب میں تہران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں پر حملے کیے۔ امریکا و اسرائیل کے مشترکہ حملوں اور لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔ اس جنگ نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے اور عالمی منڈیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/15gD9vl
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں