اے آئی الٹرا ساؤنڈ : زچگی کے شعبے میں بڑی پیش رفت - نیوز شیوز

نیوز شیوز

یہ ویب سائٹ معیار پر مبنی روزانہ کی خبریں پیش کرتی ہے۔ خبریں قومی ، بین الاقوامی ، کھیلوں اور شوبز کے بارے میں ہیں۔ لہذا حتمی ، توثیق شدہ اور معیاری مواد کیلئے ملاحظہ کریں۔

Breaking

Home Top Ad

Responsive Ads Here

بدھ، 1 اپریل، 2026

اے آئی الٹرا ساؤنڈ : زچگی کے شعبے میں بڑی پیش رفت

واشنگٹن : امریکا میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والے الٹرا ساؤنڈ آلے کو مریضوں کے معائنے کیلیے استعمال کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی کمپنی بٹر فلائی نیٹ ورک نے اعلان کیا ہے کہ اسے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے چلنے والے الٹراساؤنڈ ٹول کے استعمال کے لیے امریکی ریگولیٹری منظوری مل گئی ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ آلہ ازخود حمل کی مدت کا اندازہ لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس پیش رفت سے پسماندہ علاقوں میں زچگی کی طبی سہولیات تک رسائی بہتر بنائی جاسکے گی۔

یہ جدید ٹیکنالوجی روایتی الٹراساؤنڈ مشینوں سے مختلف ہے جو مہنگے پیزو الیکٹرک کرسٹل استعمال کرتی ہیں۔ اس کے برعکس بٹر فلائی کا آلہ ایک واحد سلیکون چپ پر مشتمل ہے جو پورے جسم کی امیجنگ کرسکتا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ اے آئی ٹول صرف دو منٹ سے بھی کم وقت میں حمل کی مدت کا اندازہ فراہم کرتا ہے، اور اس کے لیے صارف کو نہ تو تصاویر لینے کی مہارت درکار ہوتی ہے اور نہ ہی پیچیدہ طبی پیمائشیں کرنا پڑتی ہیں۔

اس ماڈل کو 21 ملین سے زائد الٹرا ساؤنڈ تصاویر پر تربیت دی گئی ہے، جو مختلف مریضوں اور طبی ماحول سے حاصل کی گئی ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی 16 سے 37 ہفتوں کے درمیان حمل کے کیسز میں درست نتائج دینے کے لیے تیار کی گئی ہے۔

امریکی ادارہ صحت ایف ڈی اے بھی طبی آلات میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ ادارے کے مطابق اس طریقے سے علاج کے معیار کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ ٹول اس کی موبائل ایپ میں شامل کیا گیا ہے، جس کا مقصد ایمرجنسی وارڈز، دیہی کلینکس اور کم وسائل والے طبی مراکز میں ڈاکٹروں کو فوری اور مؤثر فیصلے کرنے میں مدد دینا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی پہلے ہی افریقی ممالک ملاوی اور یوگنڈا میں استعمال ہو رہی ہے جبکہ مستقبل میں اسے امریکا سمیت دیگر بین الاقوامی منڈیوں میں بھی متعارف کرانے کا منصوبہ ہے۔

 

کیا مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا ہر ٹول سچائی بیان کرتا ہے؟ حقیقت کیا ہے جانیے



from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/oMwsNaF

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں