ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ شہید ایرانی سپریم لیڈر کی ہدایت کے مطابق اہم معاملات میں فیصلہ متفقہ ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ آج بھی جنگ کے معاملے پر تمام فیصلہ ساز ادارے عظیم رہبر کی رہنمائی میں یک آواز ہیں، ایران کے تمام ادارے اتحاد اور ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں یہ اتحاد مؤثر انتظام، بحرانوں سے نکلنے اور قومی مفادات کے تحفظ کیلئےمضبوط بنیاد ہے۔
ایرانی صدر کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکا کی جانب سے جنگ بندی کی تجاویز پر تہران نے واشنگٹن کے سامنے شرائط رکھی ہیں۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ امریکا سے کوئی بلواسطہ یا بلاواسطہ مذاکرات نہیں ہو رہے اور تسلسل کے ساتھ اسرائیلی اور امریکی اہداف کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔
ایرانی مؤقف
- جنگ سے ہونے والے نقصانات پر ہرجانے کا مطالبہ
- میزائل پروگرام پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا
- جنگ کب ختم ہو گی یہ فیصلہ ہم کریں گے
- جنگ کے خاتمے کا فیصلہ ٹرمپ نہیں کر سکتا
- جنگ بندی کےلئے امریکا ڈکٹیشن نہیں دے سکتا
- آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری شرائط میں شامل ہے
- دوبارہ حملے نہ کرنے کی ضمانت دی جائے
امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کے مطابق امریکا نے پاکستان کے ذریعہ ایران کو 15 نکاتی امن منصوبہ بھیجا ہے، جس کا مقصد جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنا اور خطے میں امن واپس لانے کی خواہش ہے۔
امریکا نے اس امن منصوبے میں جو شرائط پیش کی ہیں، وہ یہ ہیں۔
1۔ ایران کو موجودہ جوہری صلاحیتوں کو ختم کرنا ہوگا۔
2۔ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کرے گا۔
3۔ ایرانی سرزمین پر یورینیم کی افزودگی نہیں ہو گی۔
4۔ ایران کو اپنی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے حوالے کرنا ہوگا۔
5۔ نطنز، اصفہان اور فردو ایٹمی تنصیبات کو ختم کرنا ہوگا۔
6۔ آئی اے ای اے کو ایران کی جوہری تنصیبات تک مکمل رسائی دی جائے۔
7۔ ایران کو اپنا "علاقائی پراکسی نمونہ” ترک کرنا ہوگا۔
8۔ ایران کی خطے میں پراکسیز کو فنڈنگ بند کرنا ہوں گی۔
9۔ ایران کو اپنا میزائل پروگرام، رینج اور مقدار دونوں میں محدود کرنا ہوگا۔
10۔ ایران کو اپنے میزائلوں کے استعمال کو اپنے دفاع تک محدود رکھنا ہوگا۔
ان شرائط کو ماننے کی صورت میں ایران کو جو عالمی فوائد ملیں گے، ان میں
11۔ عالمی برادری کی طرف سے عائد پابندیوں کا خاتمہ۔
12۔ اپنے سویلین نیوکلیئر پروگرام کو آگے بڑھانے کے لیے امریکی مدد۔
13۔ ایک "اسنیپ بیک” میکانزم جو خود بخود پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کی اجازت دیتا ہے اگر ایران تعمیل کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اسے ہٹا دیا جائے گا۔
ایران اسرائیل جنگ سے متعلق تمام خبریں
وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر دی پوسٹ کی تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
تاہم وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے اشارہ دیا کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں ٹرمپ کے مقاصد کی تکمیل تک جاری رہیں گی۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/rl8nGms
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں