پیرس : فرانس میں ورسائی کے شاہی باغات میں پیش آّنے والا صدیوں پرانا واقعہ آج بھی سننے والوں کو حیرت میں ڈال دیتا ہے جہاں دو خواتین موبَرلی اور جورڈین اچانک ماضی کی پراسرار دنیا میں پہنچ گئیں۔
دنیا کی تاریخ عجیب و غریب واقعات سے بھری پڑی ہے، مگر کچھ کہانیاں ایسی ہیں جو آج بھی ذہن کو بے چین کر دیتی ہیں۔ ان ہی میں سے ایک موبَرلی جورڈین کا پراسرار واقعہ ہے، جو 1901 میں فرانس کے مشہور ورسائی محل کے باغات میں پیش آیا۔
شارلٹ این موبَرلی اور ایلینور جورڈین نامی دو برطانوی خواتین ایک عام سی سیر کے لیے ورسائی کے باغات میں گھوم رہی تھیں کہ اچانک فضا بدل گئی۔ ان کے مطابق سورج کی روشنی، خاموش راستے اور اردگرد کی فضا میں ایک عجیب سا ٹھہراؤ پیدا ہوگیا۔

ان کا کہنا تھا کہ لمحوں میں منظر بدل گیا، آس پاس موجود سیاح غائب ہوگئے اور ان کی جگہ ایسے اجنبی لوگ نظر آنے لگے جن کے لباس کسی اور صدی سے تعلق رکھتے تھے۔
ورسائی واقعے کی یہ کہانی کسی جن بھوتوں والی یا کسی پرانی ناول جیسی لگتی ہے مگر موبَرلی اور جورڈین کے لیے یہ محض تصور نہیں تھا بلکہ ایک ایسا تجربہ تھا جو ان کے ساتھ پیش آیا۔
بعد ازاں دونوں خواتین نے یہ اعتراف کیا کہ انہیں شدید چکر اور حقیقت سے کٹ جانے کا احساس ہوا، جیسے باغات کسی اسٹیج میں بدل گئے ہوں اور وہ دوسرے منظر میں داخل ہوگئی ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں یوں محسوس ہوا جیسے وہ ماضی میں کہیں پیچھے چلی گئی ہوں، سیدھا 1789 میں۔

1911میں انہوں نے اپنے اس تجربے کو ایک کتاب کی صورت میں شائع کیا، جس کا نام ’ایک ایڈونچر‘ تھا، اس کتاب میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ 10 اگست 1792 کے دن کی ایک پراسرار لمحے کا حصہ بن گئیں وہی دن جب ٹویلیریز محل پر حملہ ہوا اور فرانسیسی بادشاہت کا خاتمہ ہوا تھا۔
حیران کن بات یہ تھی کہ کتاب میں درج کئی تفصیلات بعد میں تاریخی ریکارڈ سے مطابقت رکھتی ہوئی نکلیں۔ ایسے راستے، پل اور باغات کی ترتیب جن کا اس وقت عام لوگوں کو علم نہیں تھا، مگر ان خواتین کی بیان کردہ معلومات تاریخ سے ہو بہو میل کھاتی تھیں۔
یہ سوال آج بھی موجود ہے کہ وہ ایسی چیزیں کیسے جان سکتی تھیں جو زمانہ قدیم کی گرد میں گم ہوچکی تھیں؟

یہ واقعہ ایک صدی سے زیادہ عرصے سے ماہرین اور عام لوگوں کے لیے معمہ بنا ہوا ہے، اس حوالے سے کئی نظریات سامنے آئے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ واقعی وقت کا سفر تھا؟ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ وقت ہمیشہ سیدھی لکیر میں نہیں چلتا، بعض مقامات ماضی کو محفوظ کر لیتے ہیں اور مخصوص حالات میں وہ دوبارہ ظاہر ہو سکتے ہیں۔
اس نظریے کے مطابق دونوں خواتین نے وقت کے ایک “شگاف” میں قدم رکھ دیا تھا۔ تاہم ناقدین کا سوال ہے کہ اگر ایسا ہوتا تو اس دور کے لوگ انہیں ان کے جدید لباس کی وجہ سے جادوگرنیاں قرار دے کر سخت سزا کیوں نہ دیتے؟
ایک اور خیال یہ ہے کہ فرانسیسی انقلاب جیسے خونی واقعات نے ورسائی کو ایسی توانائی سے بھر دیا جو آج بھی موجود ہے ممکن ہے خواتین نے وقت کا سفر نہ کیا ہو بلکہ ماضی کی ایک “بازگشت” کو دیکھ لیا ہو۔
شک کرنے والوں کے مطابق دونوں خواتین پہلے ہی انقلابِ فرانس اور ملکہ میری سے متاثر تھیں، تھکن، تخیل اور ایک دوسرے کے اثر نے عام سی سیرو تفریح کو غیر معمولی تجربہ بنا دیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایلینور جورڈین نے برسوں بعد بھی ایک اور عجیب واقعے کا ذکر کیا، جس میں اس نے ہال آف مررز میں پراسرار رقاص دیکھنے کا دعویٰ کیا۔ یہ بات شکوک کو مزید تقویت دیتی ہے۔
اس پراسرار واقعے کی حقیقت کیا تھی؟ شاید یہ کبھی معلوم نہ ہو سکے۔ موبَرلی جورڈین واقعہ آج بھی تاریخ کے سب سے پراسرار واقعات میں شمار ہوتا ہے۔
اس واقعے پر کئی کتابیں لکھی گئیں، تحقیق ہوئی اور فلمیں بھی بنیں۔ کچھ اسے محض وہم اور ذہنی تھکن کا نتیجہ قرار دیتے ہیں تو وہیں کچھ اس کو حقیقت سے انکار کے قابل نہیں سمجھتے۔
شاید اس کہانی کا اصل مقصد یہ ثابت کرنا نہیں کہ وقت کا سفر ممکن ہے یا نہیں، بلکہ یہ یاد دلانا ہے کہ ہماری حقیقت اتنی سادہ نہیں جتنی ہمیں نظر آتی ہے۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/PVtcwNH
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں