سخت ردعمل آنے کے بعد اسرائیل میں امریکی سفیر اپنے بیان سے مکرنے لگے - نیوز شیوز

نیوز شیوز

یہ ویب سائٹ معیار پر مبنی روزانہ کی خبریں پیش کرتی ہے۔ خبریں قومی ، بین الاقوامی ، کھیلوں اور شوبز کے بارے میں ہیں۔ لہذا حتمی ، توثیق شدہ اور معیاری مواد کیلئے ملاحظہ کریں۔

Breaking

Home Top Ad

Responsive Ads Here

پیر، 23 فروری، 2026

سخت ردعمل آنے کے بعد اسرائیل میں امریکی سفیر اپنے بیان سے مکرنے لگے

اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی ’مشرق وسطیٰ پر قبضہ کرنا اسرائیل کا حق ہے‘ کے بیان مکرنے لگے۔

قدامت پسند امریکی تجزیہ کار ٹَکر کارلسن کے ساتھ جمعہ کے روز نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں مائیک ہکابی سے جب اسرائیل کی جغرافیائی سرحدوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ اسرائیل کی سرحدوں کی بنیاد بائبل میں بیان کردہ حدود پر ہے، یہ زمین خدا نے اسرائیلیوں کو دی ہے، اسرائیل کا دریائے نیل سے فرات تک قبضہ کرنا ٹھیک ہوگا۔

واضح الفاظ میں اپنے عزائم کا اظہار کرنے والے امریکی سفیر اب بیان کی تردید کرتے ہوئے وضاحتیں پیش کر رہے ہیں۔

مشرق وسطیٰ پر قبضہ کرنا اسرائیل کا حق ہے، مائیک ہکابی

انہوں نے کہا کہ مذکورہ بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا اور پیش کیے گئے الفاظ میں ترامیم کی گئی ہیں۔ ہکابی نے اتوار کو سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ جو ورژن ٹَکر نے ڈالا اس نے میرے مکمل جواب کو ایڈٹ کیا۔ سچائی ہم میں سے بہت سے لوگوں کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔ بظاہر ٹَکر کے لیے نہیں۔

مائیک ہکابی نے کہا اگر اسرائیل مشرقِ وسطیٰ کے زیادہ تر حصے پر قبضہ کر لے تو انھیں اس پر اعتراض نہیں ہوگا، انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ یہودی قوم کا اس سرزمین پر حق قرار دیتے ہیں۔

کارلسن نے ہکابی سے کہا کہ بائبل کی ایک آیت کے مطابق یہ زمین حضرت ابراہیم کی اولاد سے وعدہ کی گئی تھی، جس میں عراق کے دریائے فرات اور مصر کے دریائے نیل کے درمیان کا علاقہ شامل ہے۔ اتنا وسیع علاقہ آج کے لبنان، شام، اردن اور سعودی عرب کے بعض حصوں پر مشتمل ہوگا۔ گزشتہ برس ٹرمپ کے مقرر کردہ سفیر ہکابی نے جواب میں کہا ’’اگر وہ سب لے لیں تو بھی ٹھیک ہوگا۔‘‘



from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/A253Hv9

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں