غزہ پر قبضے کے منصوبے کے پیش نظر اسرائیل نے غزہ کی سرحدوں پر تازہ کمک پہنچا دی ہے، اسرائیلی ٹینک زمینی پیش قدمی کے لیے تیار ہیں، غزہ میں جاری اسرائیلی حملوں میں مزید 60 سے زائد فلسطینی جام شہادت نوش کرگئے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق غزائی قلت کے سبب مزید تین فلسطینی انتقال کرگئے جس کے بعد اسرائیل کے جبری قحط سے اموات 303 ہو گئیں۔
اقوام متحدہ، کینیڈا، سعودی عرب اور ایران نے اسپتال پر اسرائیلی حملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے اگلے دو سے تین ہفتے میں غزہ جنگ کا فیصلہ کُن نتیجہ سامنے آجائے گا۔
اسرائیلی فوج کا اسپتال اور صحافیوں پر حملے کے بعد دعویٰ
اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے النصر اسپتال پر حملے میں حماس کے کیمرے کو نشانہ بنایا۔
اسرائیلی فوج نے اس ہفتے جنوبی غزہ کے اسپتال پر اپنے حملے کا دعویٰ کیا ہے جس میں پانچ صحافیوں سمیت کم از کم 21 افراد شہید ہوئے تھے حماس کی جانب سے علاقے میں اسرائیلی فوجیوں کی نگرانی کے لیے لگائے گئے کیمرے کو نشانہ بنایا گیا۔
فوج نے کہا کہ فورس نے کیمرے کو تباہ کرنے کا کام کیا۔
اسرائیل معمول کے مطابق غزہ کی پٹی میں اپنے مہلک حملوں کو یہ کہہ کر جواز فراہم کرتا ہے کہ وہ حماس کو نشانہ بنا رہا ہے۔
پیر کو النصر اسپتال پر حملہ ایک نام نہاد ”ڈبل ٹیپ”تھا جس میں اسرائیلی فورسز نے بمباری کی، پھر دوسری بار بمباری کرنے کے لیے وہاں ریسکیو ورکرز اور صحافیوں کے موقع پر پہنچنے کا انتظار کیا۔
انسانی حقوق کے گروپوں نے اسرائیلی فوج پر غزہ پر اندھا دھند بمباری میں جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے کا الزام عائد کیا ہے، ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جب سے اسرائیل نے انکلیو پر اپنی جنگ شروع کی ہے، شہید ہونے والوں میں سے 83 فیصد عام شہری ہیں۔
کسی صورت ہتھیار نہیں ڈالے جائیں گے، حزب اللّٰہ
رپورٹس کے مطابق شہید ہونے والے 6 صحافیوں میں رائٹرز کا کیمرا مین حسام المصری، امریکی خبر ایجنسی اے پی اور برطانوی اخبار انڈیپینڈنٹ کی نامہ نگار مریم ابودقہ، امریکی ٹی وی این بی سی کا صحافی معاذ ابوطحٰہ، الجریزہ کا فوٹو جرنلسٹ محمد سلامہ اور قدس نیٹ ورک کا صحافی احمد ابو عزیز شہید ہونے والوں میں شامل ہیں۔
صحافی اسپتال میں اسرائیل کے جبری قحط کا شکار فلسطینیوں کی رپورٹنگ کرنے میں مصروف تھے۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/0lybnUP
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں