اسرائیلی بربریت کے نتیجے میں شہید ہونے والی فلسطینی صحافی مریم ابو دقہ کا اپنے بیٹے غیث کے نام لکھا گیا آخری خط منظر عام پر آگیا۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق فلسطینی صحافی مریم ابو دقہ نے اپنی محبت، قربانی اور بیٹے کے مستقبل سے متعلق اپنی اُمیدوں کا اظہار تحریر کے ذریعے کیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق فلسطینی صحافی نے خط کا آغاز ان الفاظ سے کیا کہ غیث، تم اپنی ماں کا دل اور جان ہو، رو مت، بس میرے لیے دعا کرنا تاکہ مجھے سکون مل سکے۔
شہید صحافی کا اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ عزت، ایمان اور کامیابی کے ساتھ بڑا ہو، محنت کرے، تعلیم میں کمال حاصل کرے اور ایک دن ایک باعزت کاروباری شخصیت کے طور پر زندگی گزارے۔
اپنے بیٹے کو مریم ابو دقہ نے تاکید کی کہ وہ ہمیشہ انہیں یاد رکھے، وقار کے ساتھ جیئے اور اپنی ماں کی قربانی کو فخر کے ساتھ یاد کرے۔
خط میں اُن کا مزید کہنا تھا کہ میں نے جو کچھ کیا، وہ صرف اس لیے تھا کہ تم خوش رہو، سکون پاؤ اور کامیاب زندگی بسر کرسکو۔
’حماس کے کیمرے کو نشانہ بنایا‘ اسرائیلی فوج کا اسپتال اور صحافیوں پر حملے کے بعد دعویٰ
اُنہوں نے اپنے خط کے آخر میں بیٹے سے ایک آخری خواہش کا اظہار کیا کہ جب تم بڑے ہو جاؤ اور تمہاری بیٹی ہو تو اس کا نام مریم رکھنا، اپنی اس ماں کے نام پر جس نے تمہیں بے پناہ محبت کی۔
انہوں نے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ غیث تمہاری نماز ہی تمہاری اصل طاقت ہے، سب سے بڑھ کر اپنی نماز کبھی مت چھوڑنا۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/EbA4coC
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں