واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حکم جاری کیا ہے کہ اب اگر کوئی امریکی جھنڈا جلائے گا تو اسے ایک سال کی قید کاٹنا ہوگی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت امریکی پرچم کو جلانے یا کسی بھی صورت میں بے حرمتی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی جھنڈا جلانے کا سلسلہ فوری طور پر ختم ہوجانا چاہیے، اب جو کوئی جھنڈا جلائے گا تو ایک سال کیلئے جیل جائے گا۔ اس کی نہ ضمانت ہوگی اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی رعایت دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ امریکی جھنڈا جلانے کو آزادی اظہار کا نام نہیں دیا جاسکتا، جوبائیڈن کے دور میں واشنگٹن میں جرائم زیادہ ہوتے تھے۔
حکم نامے کے مطابق اٹارنی جنرل کو ہدایت کی گئی ہے کہ امریکی پرچم کی بے حرمتی کے خلاف قوانین کی سختی سے عمل درآمد کرائیں اور اس معاملے پر پہلی ترمیم کے دائرہ کار کو واضح کرنے کے لیے قانونی چارہ جوئی کریں۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ کے اس اقدام پر آزادیِ اظہار رائے کے حامی گروپوں نے شدید تنقید کی ہے۔ فاؤنڈیشن فار انڈی ویژوئل رائٹس اینڈ ایکسپریشن نے ٹرمپ کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزادیِ اظہار رائے کی اصل خوبصورتی یہ ہے کہ آپ اپنی رائے دے سکتے ہیں، چاہے دوسروں کو وہ ناگوار ہی کیوں نہ گزرے۔
ہم نے 7جنگیں رکوائیں
علاوہ ازیں صحافیوں سے گفتگو میں ایک بار پھر ڈونلڈ ٹرمپ اس بات کو دہرایا کہ ہم نے دنیا میں 7جنگیں رکوائیں، ہم نے ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکا، اس دوران ہمارا ہر میزائل نشانے پر لگا۔
امریکی صدر نے پاک بھارت جنگ کا خصوصی تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے بھارت اور پاکستان کے درمیان سیز فائر کروایا، پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ جوہری ہتھیاروں تک جارہی تھی۔
مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں نصر اسپتال پر حملے سے متعلق مجھے علم نہیں جو کچھ غزہ میں ہورہا ہے میں یہ سب نہیں دیکھنا چاہتا۔
اب تک 7جنگیں رکوائیں، اب روس یوکرین جنگ بھی ختم کرانا چاہتا ہوں، ہم اب یوکرین پر کوئی پیسہ خرچ نہیں کریں گے، جنگ کے خاتمے کیلئے روسی صدر سے بات کی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ صدر پیوٹن یوکرینی صدر کو پسند نہیں کرتے اس لئے ملاقات سے ہچکچارہے ہیں، امریکا یوکرین کی سیکیورٹی کی حمایت کرے گا۔
چین کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے جارہے ہیں، چینی صدر شی جن پنگ چاہتے ہیں کہ میں چین کا دورہ کروں۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/GS1dtm4
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں