اوہائیو: سابق امریکی صدر بارک اوباما نے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو ظالم، کرپٹ اور بد تہذیب قرار دے دیا ہے۔
امریکا میں مڈٹرم الیکشن قریب تر آتے ہی ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس کی انتخابی مہم تیز ہو گئی ہے، سابق صدر بارک اوباما ڈیموکریٹس کی جیت کے لیے متحرک ہو گئے ہیں، انھوں نے اوہائیو اور مشی گن میں جلسے کیے۔
سابق امریکی صدر نے ٹرمپ انتظامیہ کو ظالم، کرپٹ اور بد تہذیب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے مسلسل غلط فیصلوں کا نتیجہ امریکی عوام بھگت رہے ہیں، لیکن اب بہت ہو گیا، عوام تبدیلی چاہنے لگی ہے۔
انھوں نے ٹرمپ کی جنگ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی اور ایران کی غیر ضروری جنگ سے عوام تنگ آ چکے ہیں، امریکا میں بڑھتے اخراجات کی ذمہ دار ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے ہیں، صدر ٹرمپ نے غیر ضروری جنگ شروع کی جس کا کسی نے مطالبہ نہیں کیا، ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے میں نے روکا تھا اور ایک میزائل فائر نہیں کیا، وسط مدتی انتخابات ٹرمپ کے اقدامات روکنے اور جواب دہ بنانے کا بہترین موقع ہے۔
ویویک راماسوامی
اوباما نے ریپبلکن جماعت کے گورنر کے امیدوار ویویک راماسوامی کو خاص طور پر تنقید کا نشانہ بنایا، جنھوں نے اپنی اس اشتہاری مہم کو مزید شدت سے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں ان کی ڈیموکریٹک حریف ایمی ایکٹن کی والدہ کو دکھایا گیا ہے جن سے ایکٹن کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی اس اشتہار کا دفاع کیا ہے، حالاں کہ اوہائیو کے گورنر مائیک ڈی وائن سمیت ریاست بھر کے ریپبلکن رہنماؤں نے اسے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔
بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ لاہور آنے کو بے قرار، اسمبلی سے خطاب کی ویڈیو وائرل
راماسوامی کے بارے میں اوباما نے کہا ’’گزشتہ چند دنوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ ایسی کوئی حد نہیں جسے وہ پار نہ کر سکیں، ایسی کوئی پستی نہیں جس میں وہ نہ گر سکیں۔‘‘ انھوں نے یاد دلایا کہ ایکٹن نے ’’اپنے تکلیف دہ بچپن اور ان تمام تجربات (بدسلوکی، غفلت اور بے گھری) کے بارے میں دل کو چھو لینے والے انداز میں بات کی ہے جن سے انھیں گزرنا پڑا۔‘‘
اوباما نے مزید کہا ’’ہمیں اپنے عوامی عہدے داروں سے ایک خاص درجے کی شرافت اور اخلاقی تہذیب کی توقع رکھنی چاہیے۔ اور مجھے سمجھ نہیں آتا کہ کیا ہو گیا ہے کہ طرزِ عمل کے معیار اس قدر پست ہو گئے ہیں کہ کوئی شخص اس طرح کا اشتہار چلا سکتا ہے۔‘‘
دوسری طرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ریپبلکنز کی جیت کے لیے کوشاں ہیں، انھوں نے ریاست جارجیا میں جلسہ کیا، اور خطاب میں کہا کہ جنگ ختم ہوتے ہی مہنگائی بھی ختم ہو جائے گی، تاہم انھوں نے دعویٰ کیا کہ اوباما اور جو بائیڈن کے دور سے آج بھی قیمتیں کم ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا الیکشن سے متعلق ڈیموکریٹس کی برتری کے سروے جھوٹے ہیں، اوباما پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ایک غلط ڈیل کے باعث ایران نیوکلیئر بم بنا سکتا تھا، جب کہ آج اس میں نیو کلیئر بم بنانے کی صلاحیت نہیں رہی ہے۔ امریکی صدر نے وسط مدتی انتخابات کے لیے قبل از وقت اپنا ووٹ بھی کاسٹ کر دیا۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/JASTyBK
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں