عراقی فضائی حدود کی خلاف ورزی، دو ایئر لائنز پر بھاری جرمانہ عائد - نیوز شیوز

نیوز شیوز

یہ ویب سائٹ معیار پر مبنی روزانہ کی خبریں پیش کرتی ہے۔ خبریں قومی ، بین الاقوامی ، کھیلوں اور شوبز کے بارے میں ہیں۔ لہذا حتمی ، توثیق شدہ اور معیاری مواد کیلئے ملاحظہ کریں۔

Breaking

Home Top Ad

Responsive Ads Here

اتوار، 25 اکتوبر، 2026

عراقی فضائی حدود کی خلاف ورزی، دو ایئر لائنز پر بھاری جرمانہ عائد

بغداد: امریکی محکمہ ٹرانسپورٹیشن نے عراقی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے پر فرانسیسی ائیرلائن ائیر فرانس اور نیدرلینڈز کی فضائی کمپنی کے ایل ایم پر مجموعی طور پر 425,000 امریکی ڈالر (11 کروڑ 75 لاکھ 25 ہزار روپے) کا جرمانہ عائد کردیا۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق دونوں ائیر لائنز پر عراق کی فضائی حدود ”بغداد فلائٹ انفارمیشن ریجن” میں 32000 فٹ سے کم بلندی پر اڑان بھرنے کا الزام ہے۔

امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے سکیورٹی خطرات پر امریکی ائیر لائنز کی پروازوں پر یہ پابندی عائد کر رکھی ہے۔

ائیر فرانس اور کے ایل ایم کی یہ پروازیں چونکہ امریکی ائیر لائن ڈیلٹا ائیر سے مشترکہ معاہدے کے تحت کوڈ شیئر کے تحت چلائی جا رہی ہیں، اس لیے قانون کے مطابق اگر کوئی بھی ائیر لائن امریکی ائیرلائن سے کوڈ شیئر پرواز چلاتی ہے تو اس پر امریکی حفاظتی قوانین کا اطلاق لازمی ہوتا ہے۔ اس خلاف ورزی کا دورانیہ سال 2022 سے 2025 کے درمیان ہے۔

امریکی ایوی ایشن حکام کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ائیر فرانس کی 30 سے زائد اور کے ایل ایم کی 100 سے زائد پروازیں ممنوعہ عراقی فضائی حدود سے گزریں۔

کے ایل ایم پر 320,000 اور ایئر فرانس پر 105,000 ڈالر جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ دونوں ائیرلائنز کو مجموعی رقم میں سے 265,000 اگلے 60 دنوں کے اندر ادا کرنے ہوں گے جب کہ باقی رقم اس صورت میں معاف ہوسکتی ہے اگر اگلے ایک سال کے دوران انہوں نے دوبارہ ایسی کوئی خلاف ورزی نہ کی۔

امریکا نے ایران پر مزید پابندیاں عائد کردیں

امریکی حکام کو دونوں ائیرلائنز نے بتایا کہ وہ ریگولیٹری قوانین کی پاسداری کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں اور وضاحت کی کہ متعلقہ پروازوں کے دوران فضائی ٹریفک کے دباؤ کے باعث عراقی ائیر ٹریفک کنٹرولرز نے ان کے پائلٹس کو بلندی کم کرنے یا اوپر نہ جانے کی براہ راست ہدایات دیں، جن پر عمل کرنا فلائٹ کی حفاظت کے لیے ضروری تھا۔



from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/qnNGMky

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں