لندن : برطانیہ کے سمندروں میں تیراکی اور نہانے کے بعد سینکڑوں افراد کے بیمار ہونے کی اطلاعات نے ملک بھر میں پانی کی آلودگی کا خدشہ پیدا کردیا ہے۔
سمندری ماحول کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم (ایس اے ایس) کے مطابق رواں سال کے آغاز سے اب تک برطانیہ کے 406 مقامات سے بیماری کے 765 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
ان میں سے 322 شکایات یکم مئی کے بعد سامنے آئیں، جب گرمی کی شدت سے بچنے کے لیے بڑی تعداد میں لوگوں نے ساحلوں کا رخ کیا۔

رپورٹس کے مطابق متاثرہ افراد میں معدے کی بیماری اور کانوں کے انفیکشن کی شکایات سامنے آئی ہیں، بعض افراد کئی ہفتوں تک اپنے کاموں پر نہ جاسکے جبکہ کچھ لوگوں کے اسپتال میں داخل ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
بلیو فلیگ والے ساحل بھی متاثر
تشویش کی بات یہ ہے کہ بیماری کی شکایات کچھ ایسے ساحلوں سے بھی سامنے آئی ہیں جنہیں بلیو فلیگ کا اعزاز حاصل ہے، یاد رہے کہ بلیو فلیگ اعزاز عموماً ان ساحلوں کو دیا جاتا ہے جنہیں پانی کے معیار، ماحولیات، اور حفاظتی انتظامات کے اعلیٰ معیار کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ 16 شکایات بورن ماؤتھ کے ساحلوں سے موصول ہوئی ہیں۔
ایس اے ایس کی سربراہ جو مورلے نے واٹر کمپنیوں پر الزام عائد کیا کہ کئی دہائیوں سے سیوریج کو کھلے پانی میں خارج کیے جانے کے باعث لوگ بیمار ہورہے ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ عمل کسی صورت قابل قبول نہیں۔
ساحلوں پر جانے والوں کے لیے تشویش
رپورٹ ہونے والی بیماریوں نے خاص طور پر گرمیوں کے موسم میں ساحلوں کا رخ کرنے والے مقامی افراد اور سیاحوں کے لیے صحت سے متعلق سوالات اٹھا دیے ہیں۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/hPc2rRO
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں