واشنگٹن: ایک امریکی وفاقی جج نے پیدائشی شہریت محدود کرنے کے نئے صدارتی حکم پر بھی عمل درآمد روک دیا ہے۔
روئٹرز کے مطابق وفاقی جج نے بدھ کے روز ٹرمپ انتظامیہ کو اس نئے ایگزیکٹو آرڈر پر عمل درآمد سے روک دیا، جس کے ذریعے حقِ پیدائش کی بنیاد پر امریکی شہریت کے اہل افراد کی تعداد محدود کی گئی ہے۔
نیا صدارتی حکم غیر ملکی والدین کے بچوں کی شہریت تسلیم نہ کرنے سے متعلق تھا، وفاقی جج نے فیصلے میں کہا کہ صدر ٹرمپ کا نیا حکم امریکی آئینی ترمیم سے متصادم ہے، نیا حکم نامہ سپریم کورٹ کے رواں برس کے فیصلے کے بھی خلاف ہے۔ سپریم کورٹ پہلے ہی پیدائشی شہریت کے گزشتہ ایگزیکٹو آرڈر کو مکمل مسترد کر چکی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ حکم امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے ان کی اس سے قبل کی کوشش مسترد کیے جانے کے بعد جاری کیا تھا۔
بچوں کی پیدائش پر امریکی شہریت کیلیے نئی شرط کی تجویز
میری لینڈ کے شہر گرین بیلٹ میں جوبائیڈن کی مقرر کردہ امریکی ڈسٹرکٹ جج ڈیبورا بورڈمین نے یہ عبوری حکمِ امتناعی تارکینِ وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والے وکلا اور کارکنوں کی درخواست پر جاری کیا ہے۔ ان وکلا اور کارکنوں نے گزشتہ سال بھی بورڈمین سے ایک فیصلہ حاصل کیا تھا، جس کے ذریعے ٹرمپ انتظامیہ کو ان کے ابتدائی 2025 کے انتظامی حکم پر عمل درآمد سے روک دیا گیا تھا، جس کا مقصد حقِ پیدائش کی بنیاد پر شہریت کو محدود کرنا تھا۔
امریکی سپریم کورٹ نے 30 جون کو اس ابتدائی کوشش کو مسترد کر دیا تھا، جس کے ذریعے ایسے بچوں کے لیے حقِ پیدائش کی بنیاد پر امریکی شہریت ختم کرنے کی کوشش کی گئی تھی جن کے والدین امریکی شہری یا قانونی طور پر مستقل رہائشی (گرین کارڈ ہولڈر) نہیں تھے۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ کوشش امریکی آئین کی چودہویں ترمیم کی شہریت سے متعلق شق کی خلاف ورزی کرتی ہے۔ یہ شق ان تمام افراد کو شہریت عطا کرتی ہے جو امریکا میں پیدا ہوئے ہوں۔
اس فیصلے کے بعد ٹرمپ نے 6 اگست کو ایک نیا انتظامی حکم جاری کیا، جس میں خاص طور پر ’’پیدائش کے لیے سیاحت‘‘ کو ہدف بنایا گیا تھا۔ اس اصطلاح سے مراد وہ صورت ہے جس میں خواتین اپنے بچوں کو جنم دینے کے لیے امریکا کا سفر کرتی ہیں تاکہ ان کے بچے خودکار طور پر امریکی شہریت حاصل کر سکیں۔
نئے حکم کے تحت ان بچوں کو بھی شہریت سے محروم کیا جائے گا اگر ان کے والدین میں سے کوئی ایک امریکا میں کسی غیر ملکی حکومت کے لیے کام کرتا ہو، شہریت حاصل کرنے کے لیے فراڈ یا کسی تجارتی لین دین میں ملوث ہو، یا اسے ’’دشمن اجنبی‘‘ قرار دیا گیا ہو۔
تاہم وکلا نے جج بورڈمین سے درخواست کی کہ وہ ٹرمپ کے اس تازہ ترین حکم پر عمل درآمد روک دیں اور یہ یقینی بنائیں کہ ان کے مؤکلوں کی شہریت کو بدستور تسلیم کیا جاتا رہے، اور جج نے یہ درخواست منظور کر لی، اور اپنے حکم میں لکھا ’’سپریم کورٹ اپنا فیصلہ سنا چکی ہے کہ سرٹیفائیڈ کلاس مقدمے میں شامل بچے پیدائش کے وقت شہری ہیں۔‘‘
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/IQ2aDyV
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں