واشنگٹن(یکم ستمبر 2026): نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے امریکی فوج کو درپیش ہتھیاروں کی قلت سے متعلق تمام خدشات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج چین سمیت دنیا بھر میں موجود کسی بھی قسم کے خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
ہتھیاروں کی کمی اور عسکری اداروں پر بڑھتے ہوئے دباؤ سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے واضح کیا کہ اگرچہ امریکا چین کو ایک بڑا حریف سمجھتا ہے، تاہم اس کے باوجود بیجنگ کے ساتھ باہمی دلچسپی کے امور پر مثبت تعلقات برقرار رکھنے کی کوششیں بھی جاری رکھی جائیں گی۔
Read more: Trump says Iran’s Kharg is being ‘blown to smithereens’, but gives no details
واضح رہے کہ ایران کی جانب سے بڑے پیمانے پر بیلسٹک میزائل حملوں کے باعث امریکا کے پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کے انٹرسیپٹرز کے ذخائر پر دباؤ بڑھنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
اوپن سورس انٹیلیجنس آسنٹ پر مبنی رپورٹ کے مطابق ایرانی میزائلوں کو روکنے کے لیے امریکا نے بڑی تعداد میں انٹرسیپٹرز استعمال کیے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی فوج نے تقریباً 32 ایرانی بیلسٹک میزائلوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک ہی رات میں 96 سے 128 تک انٹرسیپٹرز فائر کیے۔ ایک انٹرسیپٹر کی ممکنہ قیمت تقریباً 40 لاکھ ڈالر بتائی جاتی ہے، جس کے باعث اس ایک رات کی دفاعی کارروائی کی مجموعی لاگت تقریباً 38 کروڑ سے 64 کروڑ ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ اندازے درست ہیں تو ایران کے ایک بڑے میزائل حملے کو روکنے کی امریکی کوشش خاصی مہنگی ثابت ہوئی ہے۔ دفاعی ماہرین کے لیے تشویش کا اہم پہلو یہ ہے کہ پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کی تیاری فوری طور پر ممکن نہیں ہوتی بلکہ ایک نئے انٹرسیپٹر کی تیاری میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی ذخیرے میں اب تقریباً 900 پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز باقی رہ گئے ہیں۔ تاہم اس تعداد کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق مشکل ہے اور امریکی حکام کی جانب سے موجودہ ذخیرے کی درست تعداد عام طور پر ظاہر نہیں کی جاتی۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/kRoxLPv
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں