نیویارک (21 جولائی 2026): حوثی باغیوں کی بحیرہ احمر کی ناکہ بندی کی دھمکیوں پر اقوام متحدہ نے اظہار تشویش کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ نے پیر کے روز مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی، سعودی عرب اور بحری جہاز رانی کی آزادی کے خلاف حوثیوں کی حالیہ دھمکیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے پورے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یو این ترجمان اسٹیفن دوجارک نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ انھیں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر ’’سمندری ناکہ بندی‘‘ عائد کرنے کی دھمکیوں پر تشویش ہے، کیوں کہ اس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، ایندھن کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے، اور عالمی معیشت پر مزید منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کیخلاف بحری ناکہ بندی کر دی
اسٹیفن دوجارک نے کہا ’’یہ واضح طور پر ایک اور اہم گزرگاہ ہے۔ ہم پہلے ہی آبنائے ہرمز کی تقریباً بندش کے اثرات دیکھ رہے ہیں اور یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ اس کے عالمی معیشت پر کس قدر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔‘‘
انھوں نے کہا کہ شہریوں کی ضروریات سے متعلق اہم تنصیبات، جن میں اسپتال اور پانی کی فراہمی کا نظام شامل ہیں، ہر صورت محفوظ رہنے چاہییں۔ انھوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا احترام کریں، جن میں امتیاز، تناسب اور احتیاط کے اصول شامل ہیں۔
انھوں نے خبردار کیا کہ اگر دوبارہ کوئی بحران پیدا ہوا تو اس سے اقوامِ متحدہ کی انسانی امداد کی ترسیل، امن مشنوں کے لیے سامان کی فراہمی، عالمی تجارت اور توانائی کی تجارت متاثر ہو سکتی ہے۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/xkqonhC
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں