امریکا : بیٹی کے نام پر حکومت سے فراڈ کرنے والی ماں گرفتار - نیوز شیوز

نیوز شیوز

یہ ویب سائٹ معیار پر مبنی روزانہ کی خبریں پیش کرتی ہے۔ خبریں قومی ، بین الاقوامی ، کھیلوں اور شوبز کے بارے میں ہیں۔ لہذا حتمی ، توثیق شدہ اور معیاری مواد کیلئے ملاحظہ کریں۔

Breaking

Home Top Ad

Responsive Ads Here

منگل، 30 جون، 2026

امریکا : بیٹی کے نام پر حکومت سے فراڈ کرنے والی ماں گرفتار

نیشول : امریکہ میں ایک ماں کو اپنی 9 سال سے لاپتہ بیٹی کے نام پر غیرقانونی طریقے سے سرکاری فوڈ اسٹیمپ حاصل کرنے پر گرفتار کر لیا گیا۔

امریکی ریاست ٹینیسی میں ایک حیران کن اور سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے جہاں نو سال سے لاپتا لڑکی کے نام پر سرکاری فوڈ اسٹامپ فوائد حاصل کرنے کے الزام میں اس کی والدہ کو حراست میں لے لیا گیا۔

نیشوِل پولیس کے مطابق 51 سالہ شینن اینڈرسن پر الزام ہے کہ وہ اپنی لاپتا بیٹی جوڈی "بروک” اینڈرسن کے نام پر سرکاری فوڈ اسٹامپ فوائد حاصل کرتی رہی۔ پولیس نے خاتون کو گرفتار کرکے فوڈ اسٹامپ فراڈ کے متعدد سنگین الزامات عائد کر دیے ہیں۔

بروک اینڈرسن 18 برس کی تھی جب 9 اگست 2017 کو اس کے لاپتا ہونے کی رپورٹ درج کرائی گئی۔ تحقیقات کے مطابق بروک کو آخری بار اپنی والدہ کے ساتھ ایک فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ کے باہر دیکھا گیا تھا۔ شینن اینڈرسن کا دعویٰ تھا کہ وہ چند لمحوں کے لیے واش روم گئیں اور واپس آ کر دیکھا تو بیٹی غائب تھی۔

تاہم بروک کی خالہ ڈی اینا اینڈرسن نے اس بیان پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ لاپتا ہونے کی اطلاع فوری دینے کے بجائے کئی ہفتوں بعد درج کرائی گئی، جس سے قیمتی وقت ضائع ہوا۔

ڈی اینا کا کہنا ہے کہ بروک اور ان کی والدہ دونوں اس وقت بے گھر تھیں اور منشیات کی لت کا شکار تھیں، جس کے باعث نوجوان لڑکی پہلے ہی خطرناک حالات میں زندگی گزار رہی تھی۔

وقت گزرنے کے ساتھ خاندان کی امیدیں بھی ماند پڑتی گئیں، بروک کی خالہ کا کہنا ہے کہ اب انہیں یقین ہونے لگا ہے کہ شاید بروک زندہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں برسوں تک امید کرتی رہی کہ بروک مل جائے گی، لیکن مایوسی ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق معاملہ نے اس وقت نیا رخ اختیار کرگیا جب حکام نے الزام عائد کہ شینن اینڈرسن اپنی لاپتا بیٹی کے نام پر حکومتی امدادی فوائد حاصل کرتی رہی ہے۔ اس انکشاف پر بروک کی خالہ نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ ناقابلِ قبول عمل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خاندان کی اولین ترجیح اب بھی بروک کو تلاش کرنا ہے، خواہ وہ زندہ ہوں یا مردہ، تاکہ حقیقت سامنے آسکے اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جاسکے۔

پولیس کے مطابق شینن اینڈرسن اس وقت 22 ہزار ڈالر کے مچلکوں کے تحت جیل میں قید ہیں۔ ان پر فوڈ اسٹامپ فراڈ کے علاوہ جنسی مجرموں کی رجسٹریشن سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب بروک اینڈرسن کی گمشدگی آج بھی ایک معمہ بنی ہوئی ہے، جبکہ ان کے اہل خانہ تقریباً ایک دہائی بعد بھی جواب کے منتظر ہیں۔



from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/GBN7poi

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں