پونا : بھارت میں کیتن اگروال قتل کیس کی تحقیقات میں نئے انکشافات سامنے آئے ہیں، دوران تفتیش معلوم ہوا کہ ملزمان نے انٹرنیٹ پر واردات کے طریقے تلاش کیے تھے۔
تفتیش کاروں کے مطابق مرکزی ملزمان سیّا گوئل اور چیتن چودھری نے مبینہ طور پر کیتن کو قتل کرنے کے مختلف طریقوں کے بارے میں آن لائن معلومات حاصل کیں اور ابتدائی منصوبہ ناکام ہونے کی صورت میں ایک متبادل "پلان سی” بھی تیار کر رکھا تھا۔
تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مبینہ شواہد کیتن اگروال قتل کیس کو مزید سنگین اور پیچیدہ بنا رہے ہیں، ڈیجیٹل شواہد نے تفتیش کا رخ بدل دیا، جبکہ اس واقعے سے پہلے ہی ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑ رہی ہے۔
دوسری جانب حکام کے مطابق تفتیش کا عمل اور قانونی کارروائی بھی جاری ہے اور کیس سے متعلق حتمی فیصلہ عدالت کی جانب سے شواہد اور گواہان کی روشنی میں کیا جائے گا۔
تحقیقاتی اداروں کا کہنا ہے کہ اگر ملزمان کے خلاف عائد یہ الزامات عدالت میں ثابت ہو جاتے ہیں تو یہ واقعہ نہ صرف ایک المناک سانحہ بلکہ ایک انتہائی سوچا سمجھا اور پریشان کن جرم قرار پائے گا۔
واضح رہے کہ بھارتی شہر پونے کے معروف رئیل اسٹیٹ کاروباری خاندان سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ کیتن اگروال کی موت کو ابتدا میں ایک افسوسناک حادثہ سمجھا گیا تھا۔
18جون کو لوناولا کے قریب واقع تاریخی لوہا گڑھ قلعے میں ٹریکنگ کے دوران تقریباً 400 فٹ گہری کھائی میں گرنے سے اس کی موت واقع ہوگئی تھی اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ ایک حادثاتی واقعہ تھا۔
لیکن وقت گزرنے کے ساتھ سامنے آنے والے حقائق نے اس کیس کو ایک ہائی پروفائل قتل کی معمہ خیز کہانی میں بدل دیا۔
پولیس کے مطابق یہ محض حادثہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی مبینہ سازش کا نتیجہ تھا، جس میں کیتن کی منگیتر سیا گوئل اور اس کے دوست چیتن چودھری کے ملوث ہونے کا قوی شبہ ہے۔
کیتن اگروال کیس : منگیتر کے قتل میں ملوث ملزمہ کا پولیس کے سامنے اہم انکشاف
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/1pYcgZr
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں