بیجنگ(15 مئی 2026): امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا ہے کہ امریکا نے ایران کے معاملے پر چین سے کوئی مدد نہیں مانگی اور نہ ہی اسے اس کی ضرورت ہے۔
بیجنگ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطح کی ملاقات کے بعد امریکی نیوز چینل ‘این بی سی’ سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے خود مختار ہے، لیکن صدر ٹرمپ اور شی جن پنگ کی بات چیت میں ‘آبنائے ہرمز’ کا معاملہ سرفہرست رہا۔
امریکی وزیر خارجہ نے بتایا کہ چینی فریق نے واضح کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں عسکریت پسندی اور وہاں کسی بھی قسم کے ‘ٹول سسٹم’ کے نفاذ کے مخالف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہی امریکا کا موقف بھی ہے اور یہ خوش آئند ہے کہ اس نکتے پر دونوں ممالک ایک صفحے پر ہیں۔ اس کے علاوہ چین بھی ایران کے جوہری ہتھیار تیار کرنے کے خلاف ہے اور اس حوالے سے دونوں ممالک کے تحفظات یکساں ہیں، تاہم امریکا چین سے کوئی درخواست نہیں کر رہا بلکہ صرف اپنے مفادات اور عالمی استحکام کے لیے بات چیت کر رہا ہے۔
مارکو روبیو نے ایرانی قیادت کو سخت لہجے میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایرانیوں کا خیال ہے کہ وہ امریکا کی اندرونی سیاست یا سیاسی تقسیم کو اپنے حق میں استعمال کر کے صدر ٹرمپ کو کسی ‘برے سودے’ پر مجبور کر سکیں گے، تو یہ ان کی بھول ہے، ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔
تائیوان کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ تائیوان کا چین میں انضمام چینی صدر کے ابتدائے حکومت سے ان کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ ان کا خیال ہے کہ چین کی ترجیح یہ ہوگی کہ تائیوان ووٹ، ریفرنڈم یا رضاکارانہ طور پر چین میں شامل ہونے کا فیصلہ کرے۔
مارکو روبیو نے واضح کیا کہ یہ انضمام کسی نہ کسی وقت ہو جائے گا، لیکن امریکا سمجھتا ہے کہ اسے طاقت یا زبردستی کے ذریعے نافذ کرنا بہت بڑی غلطی ہوگی۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/3z4Z0k7
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں