بیجنگ (14 مئی 2026): چین کے صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیجنگ میں پرتپاک خیر مقدم کیا، انھوں نے اپنے ابتدائی خیر مقدمی کلمات کے بعد کہا کہ چین اور امریکا کو ’’حریف نہیں بلکہ شراکت دار‘‘ ہونا چاہیے۔
چینی صدر نے زور دیا کہ دونوں ممالک کو ’’ایک دوسرے کی کامیابی میں معاون بننا اور مشترکہ خوش حالی کے لیے کام کرنا چاہیے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ 2026 بیجنگ اور واشنگٹن کے تعلقات کے لیے ایک ’’تاریخی اور سنگِ میل‘‘ ثابت ہوگا۔
شی جن پنگ نے کہا چین اور امریکا دو بڑی طاقتیں ہیں،عالمی استحکام ہمارا مشترکہ ہدف ہے، دونوں ممالک کو ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ شراکت دار ہونا چاہیے، چین اور امریکا کے درمیان مشترکہ مفادات، اختلافات سے کہیں زیادہ ہیں۔
چینی صدر کا کہنا تھا کہ چین اور امریکا دونوں تعاون سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جب کہ تصادم کی صورت میں دونوں کو نقصان ہوگا۔ ہمیں ایک دوسرے کی کامیابی اور مشترکہ ترقی کے لیے معاون بننا چاہیے اور نئے دور میں بڑی طاقتوں کے درمیان بہتر تعلقات کے درست راستے تلاش کرنے چاہئیں۔
چینی آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزر گیا
شی جن پنگ نے مزید کہا کہ ’’جنابِ صدر! میں ان اہم امور پر آپ سے گفتگو کا منتظر ہوں جو ہمارے دونوں ممالک اور پوری دنیا کے لیے اہم ہیں۔ میں آپ کے ساتھ مل کر چین امریکا تعلقات کے اس عظیم جہاز کی سمت متعین کرنے اور اسے آگے بڑھانے کے لیے کام کرنے کا خواہاں ہوں تاکہ 2026 ایک تاریخی اور یادگار سال بنے، جو چین امریکا تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے۔‘‘
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ 2 روزہ اہم سربراہی اجلاس کے لیے بیجنگ میں موجود ہیں، یہ 2017 کے بعد ان کا پہلا دورۂ چین ہے، جب وہ اپنی پہلی صدارتی مدت میں چین گئے تھے۔ ٹرمپ اور چینی صدر نے باہمی ملاقات کے آغاز پر افتتاحی کلمات ادا کیے۔ اس سے قبل دونوں رہنماؤں نے ایک پروقار استقبالیہ تقریب میں شرکت کی۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان بند کمرہ اجلاس جاری ہے، جس میں تجارت، ایران جنگ اور تائیوان سے متعلق امور زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ ٹرمپ نے چین روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ یہ مذاکرات ’’سب سے بڑھ کر تجارت‘‘ پر مرکوز ہوں گے۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/Aql47X0
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں