واشنگٹن : امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے امریکی آرمی چیف جنرل رینڈی جارج کو عہدے سے برطرف کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے خلاف جاری جنگ اور کشیدگی کے دوران امریکا میں اہم عسکری تبدیلی سامنے آئی۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے غیر متوقع طور پر امریکی آرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی جارج کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ جنگی حالات کے دوران کسی جنرل کو عہدے سے ہٹانا امریکی تاریخ میں تقریباً بے مثال عمل ہے۔
پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ جنرل رینڈی جارج "فوری طور پر” اپنے عہدے سے ریٹائر ہو رہے ہیں، حالانکہ ان کی مدتِ ملازمت میں ایک سال سے زائد کا عرصہ باقی تھا۔
ترجمان شان پارنیل کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی صدر ٹرمپ کے وژن کے مطابق فوج کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے کی گئی ہے، وزیر دفاع ایسے افسران کو سامنے لانا چاہتے ہیں جو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر سختی سے عملدرآمد کر سکیں۔
وزیر دفاع نے صرف آرمی چیف ہی نہیں بلکہ دو دیگر اہم جرنیلوں کو بھی فارغ کر دیا ہے جن میں آرمی ٹرانسفارمیشن اینڈ ٹریننگ کمانڈ کے سربراہ جنرل ڈیوڈ ہوڈن اور سربراہ آرمی چیپلن کور میجر جنرل ولیم گرین شامل ہیں۔
اگرچہ پینٹاگون نے برطرفی کی کوئی واضح وجہ بیان نہیں کی، تاہم یہ تبدیلی ایسے وقت میں آئی ہے جب امریکی فوج کی ایلیٹ "82nd ایئر بورن ڈویژن” کے ہزاروں فوجی ایران میں ممکنہ زمینی کارروائیوں کے لیے مشرقِ وسطیٰ پہنچ رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ محکمہ دفاع کو صدر ٹرمپ کے وژن کے مطابق تیزی سے تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔
جنرل رینڈی جارج کی جگہ ان کے نائب اور وزیر دفاع کے سابق ملٹری ایڈ جنرل کرسٹوفر لانیو کو قائم مقام آرمی چیف آف اسٹاف مقرر کر دیا گیا ہے۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/U1vYseK
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں