تہران (23 مارچ 2026): امریکا اور اسرائیل کے ایران پر فضائی حملے جاری ہیں اور تہران میں ٹی وی اور ریڈیو کی کئی تنصیاب پر حملے کیے گئے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے تہران کے مختلف علاقوں پر فضائی حملے کیے گئے ہیں، جس کے بعد متعدد مقامات پر زور دار دھماکے سنے گئے ہیں۔ تاہم ایران کا دفاعی نظام فعال ہے۔
جن علاقوں پر فضائی حملے کیے گئے، ان میں پیروزی اسٹریٹ، گرمدرہ، شہید بابائی ہائی وے، خیابان حافظ کے علاقے شامل ہیں۔ تاہم وہاں سے اب تک کسی جانی ومالی نقصان کی تفصیلات تا حال سامنے نہیں آئی ہیں۔
اس کے علاوہ تہران کے علاقے سرخہ، کرج اور جنوبی ایران کے شہر بوشہر میں بھی امریکی اور اسرائیلی حملے کیے گئے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی اور اسرائیلی فوج نے بندر عباس میں ریڈیو ٹرانسمیٹر کو نشانہ بنایا۔ خلیج فارس کے ریڈیو اور ٹیلی ویژن سینٹر کا 100 کلو واٹ کا ٹرانسمیٹر نشانہ بنا۔ حملے میں اے ایم ٹرانسمیٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں ایک شخص جاں بحق جب کہ دوسرا زخمی ہوا ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں میں قم ٹربائن انجن پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
سینٹ کام کے مطابق یہ پلانٹ ڈرونز اور طیاروں کے لیے گیس ٹربائن انجن تیار کرتا تھا اور گیس ٹربائن انجن ایرانی پاسداران انقلاب کے زیر استعمال تھے۔
دریں اثنا ایرانی ہلال احمر کے سربراہ نے بتایا ہے کہ 28 فروری سے اب تک امریکی اور اسرائیلی حملوں میں 81 ہزار سے زیادہ سویلین یونٹس کو نقصان پہنچا ہے۔
ایران، اسرائیل اور امریکا جنگ سے متعلق تمام خبریں
ایرانی ہلال احمر کے مطابق 61 ہزار گھر، 19 ہزار تجارتی یونٹس، 275 طبی مراکز، تقریباً 500 اسکول شامل ہیں۔ امریکا اور اسرائیل نے امدادی ٹیموں اور ہلال احمرکی سہولتوں کو بھی براہ راست نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے حملوں کی 75 ویں لہر کا آغاز، اسرائیل اور امریکی اہداف نشانہ
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/o67mUXp
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں