تہران(19 مارچ 2026): اسرائیلی فوج نے ایران کی ساحلی جنوبی پارس فیلڈ میں گیس تنصیبات پر حملہ کردیا جس کے بعد گیس کی پیداوار معطل کردی گئی ہے۔
رائٹرز کے مطابق اسرائیلی حملے کے بعد 25 ہزار ملین مکعب فٹ سے زائد ایرانی گیس کی پیداوار معطل ہوگئی، جنوبی پارس دنیا کے سب سے بڑے قدرتی گیس کے ذخیرے کا ایرانی حصہ ہے، جو خلیج میں امریکا کے قریبی اتحادی قطر کے ساتھ مشترکہ ملکیت ہے۔
قطر کی وزارت خارجہ نے ایران کی تنصیبات پر اسرائیلی حملے کو "خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ” قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی، جبکہ ایران کے جوابی حملے کو بین الاقوامی قانون کی "سنگین خلاف ورزی” قرار دیتے ہوئے دو اعلیٰ ایرانی سفارت کاروں کو ملک بدر کر دیا ہے۔
اسرائیلی حملے کے جواب میں ایران نے خلیج بھر میں تیل اور گیس کے اہداف کو نشانہ بنانے کا عہد کرتے ہوئے قطر اور سعودی عرب پر میزائل داغے ہیں۔
قطر کی سرکاری پیٹرولیم کمپنی ‘قطر انرجی’ نے راس لافان انڈسٹریل سٹی پر ایرانی میزائل حملوں کے بعد "بڑے پیمانے پر نقصان” کی اطلاع دی ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب نے کہا ہے کہ بدھ کو ریاض کی طرف داغے گئے چار بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا، جبکہ ملک کے مشرقی حصے میں ایک گیس تنصیب پر ڈرون حملے کی کوشش بھی ناکام بنا دی گئی۔
اس تازہ صورتحال نے عالمی توانائی کی سپلائی میں غیر معمولی تعطل پیدا کر دیا ہے، جس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے سیاسی خطرات بڑھا دیے ہیں۔ ٹرمپ تقریباً چار ہفتے قبل ایران پر حملے میں اسرائیل کے ساتھ شامل ہوئے تھے۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/ExwUuAb
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں