تہران : ایران کی طاقتور مذہبی کونسل اسمبلی آف ایکسپرٹس نے 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر منتخب کرلیا ہے جو سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید کے صاحبزادے ہیں۔
ایرانی آئین کے مطابق 88 ارکان پر مشتمل اسمبلی آف ایکسپرٹس کو ملک کے سب سے طاقتور عہدے، یعنی سپریم لیڈر کے انتخاب کا اختیار حاصل ہے۔
تاہم اس اعلان کے بعد عالمی سطح پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے کیونکہ ایرانی انقلاب کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب سپریم لیڈر کے منصب پر کسی سابق رہنما کے بیٹے کو منتخب کیا گیا ہے، ناقدین اسے ایک طرح کی خاندانی جانشینی قرار دے رہے ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای 1969 میں ایران کے مذہبی شہر مشہد میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے سیاسی ماحول میں پرورش پائی اور اپنے والد کو پہلے انقلاب کے رہنما، پھر ایران کے صدر اور بعد ازاں سپریم لیڈر بنتے دیکھا۔
نوجوانی میں انہوں نے ایران عراق جنگ کے دوران رضاکارانہ خدمات بھی انجام دیں۔ بعد میں وہ مذہبی تعلیم کے حصول کے لیے ایران کے اہم مذہبی شہر قم چلے گئے جہاں انہوں نے اسلامی فقہ اور دینی علوم کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور بعد میں انہی مدارس میں تدریسی خدمات بھی انجام دیتے رہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے کبھی کوئی بڑا سرکاری عہدہ نہیں سنبھالا اور نہ ہی وہ کسی منتخب منصب پر فائز رہے، تاہم کئی برسوں سے انہیں ایران کی سیاست میں ایک طاقتور مگر پس پردہ شخصیت سمجھا جاتا رہا ہے۔

انہوں نے کبھی کسی عوامی انتخاب میں حصہ نہیں لیا اور عام طور پر عوامی تقریروں یا سیاسی بیانات سے بھی گریز کرتے رہے ہیں، جس کی وجہ سے بہت سے ایرانیوں نے کبھی ان کی آواز بھی نہیں سنی۔
رپورٹس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کے ایران کی طاقتور فوجی تنظیم پاسداران انقلاب (اسلامک ریولوشنری گارڈ کور) کے ساتھ بھی قریبی روابط رہے ہیں، جو ایران کے نظامِ طاقت میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ان کی قیادت ایسے وقت میں شروع ہو رہی ہے جب ایران خطے میں بڑھتی کشیدگی، عالمی طاقتوں کے ساتھ تناؤ اور اندرون ملک بڑھتے معاشی دباؤ جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔
اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا مجتبیٰ خامنہ ای ایران کو ایک نئے دور کی طرف لے جائیں گے یا مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک طویل اور سخت مرحلہ شروع ہونے والا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق وہ اپنے والد کے مقابلے میں ایران کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کی ترقی کے زیادہ حامی سمجھے جاتے ہیں اور علی خامنہ ای کے جوہری ہتھیاروں کے خلاف فتوے کی نئی تعبیر کی حمایت کرتے ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای کا انتخاب ! امریکی تجزیہ کاروں نے ٹرمپ پالیسیوں پر سوالات اٹھا دیے
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/4eR6JFq
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں