برکے خان (1208ء–1266ء) منگول فاتح چنگیز خان کے سب سے بڑے بیٹے جوجی خان کا بیٹا تھا، وہ ابتدا میں ایک منگول سپہ سالار تھا مگر تاریخ میں اس کی اصل پہچان اس کے قبولِ اسلام اور ہلاکو خان کے خلاف اس کے کردار سے بنی۔
برکے خان Barqai Khan کی والدہ سلطان خاتون نہایت رحم دل اور نرم مزاج خاتون تھیں، اگرچہ وہ مسلمان نہیں تھیں، لیکن اسلامی تعلیمات اور روحانی شخصیات سے متاثر تھیں۔ اُس دور میں مشہور صوفی بزرگوں، جیسے شیخ محی الدین ابن عربی اور شیخ سیف الدین کا چرچا عام تھا۔ ان بزرگوں کے علم و کردار نے نہ صرف عوام بلکہ منگول حکمرانوں کو بھی متاثر کیا۔
سلطان خاتون نے اپنے بیٹے کو قتل و غارت سے بیزار رہنے کی تعلیم دی۔ یہی تربیت بعد میں اس کی شخصیت میں نمایاں ہوئی۔ اسلام کے بارے میں جاننے کا شوق بڑھا تو اس نے اپنے دربار میں شیخ سیف الدین کو مدعو کیا، جن کی دعوت و رہنمائی سے وہ مسلمان ہو گیا۔ یوں برکے خان منگول حکمرانوں میں اسلام قبول کرنے والا پہلا فرد بنا۔
جب منگول سپہ سالار ہلاکو خان نے مسلم دنیا پر حملے شروع کیے اور بغداد کو تباہ کیا، تو عالمِ اسلام شدید اضطراب میں تھا۔ ایسے وقت میں برکے خان نے کھل کر مسلمانوں کا ساتھ دیا اور مصر کے سلطان سلطان بیبرس کو خط لکھ کر حمایت کا یقین دلایا۔
عین جالوت کی تاریخی جنگ میں جب بیبرس نے منگولوں کو شکست دی، اس وقت ہلاکو ایران کی طرف تھا۔ شکست کی خبر ملتے ہی وہ بڑی فوج کے ساتھ انتقام کے ارادے سے نکلا مگر تاریخ نے ایک نیا منظر دیکھا کہ برکہ خان اپنی فوج کے ساتھ اس کے مقابل آ کھڑا ہوا۔
شدید سردی، برف سے ڈھکے میدان اور جما ہوا دریا جنگ کے دوران منگول فوج کا ایک بڑا حصہ برف ٹوٹنے سے دریا میں ڈوب گیا۔ اس غیر متوقع نقصان نے ہلاکو کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ اس شکست میں اس کا بیٹا بھی مارا گیا اور وہ آذربائیجان کی جانب واپس لوٹ گیا۔
یہ پہلا موقع تھا جب منگولوں کے اندرونی اختلافات نے ان کی طاقت کو کمزور کیا۔ برکہ خان کی اس جرات مندانہ حکمت عملی نے منگول اتحاد کو توڑ دیا۔
برکہ خان کی فتح نے نہ صرف مسلم دنیا کو حوصلہ دیا بلکہ منگولوں کے طرزِ فکر میں بھی تبدیلی کی بنیاد رکھی۔ شکستوں کے بعد کئی تاتاری مصر کا رخ کرنے لگے، جہاں انہیں پناہ اور حسن سلوک ملا۔ یہی رویہ ان کے اسلام قبول کرنے کا سبب بنا۔
1266ء میں برکہ خان کا انتقال ہوا، مگر مختصر زندگی میں اس نے ثابت کیا کہ ایمان، حکمت اور جرات مل جائیں تو تاریخ کا دھارا بدلا جا سکتا ہے۔
برکہ خان صرف ایک منگول حکمران نہیں تھا بلکہ ایک ایسا کردار تھا جس نے طاقت کے بجائے اصول کو ترجیح دی۔ ماں کی تربیت، روحانی اثرات اور حق کی حمایت نے اسے تاریخ میں ایک منفرد مقام دیا۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/LbkBjWV
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں