ڈیٹرائٹ : سال 2000 کے ابتدائی مہینوں میں امریکی شہر ڈیٹرائٹ اور اس کے نواحی علاقوں میں سیریل کلر کے ہاتھوں نوجوان خواتین کے قتل کی پراسرار وارداتوں نے عوام کو خوف میں مبتلا کردیا تھا۔
شہر کے ویران علاقوں سے ایک کے بعد ایک لاش ملنے کے واقعات نے علاقہ مکینوں کو خوفزدہ کردیا اور تفتیش کاروں کے سامنے ایک اور بھیانک خدشہ کو تقویت مل رہی تھی کہ ان وارداتوں میں ملوث خطرناک سیریل کلر شہر کی گلیوں میں اب بھی آزادانہ گھوم رہا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق دوجنوری 2000 کو ڈیٹرائٹ سے باہر ڈیئربورن ہائٹس میں برف سے جمے دریا سے ایک نیم برہنہ خاتون کی لاش برآمد ہوئی جس پر ابتدا میں خود کشی کا امکان ظاہر کیا جارہا تھا۔
تاہم بعد ازاں پولیس نے خودکشی کے امکان کو خود ہی مسترد کردیا اور شبہ ظاہر کیا کہ خاتون کو قتل کے بعد پل سے نیچے پھینکا گیا تھا، تفتیشی افسر کے مطابق اس جرم کے دو مقاصد تھے پہلا اسے قتل کرنا اور دوسرا لاش کو ٹھکانے لگانا تھا۔
پولیس نے پہلے تو لاش کی اطلاع دینے والے شہری کو مشکوک جان کر اس سے تفتیش کی تاہم چند سوالات کے بعد ہی اسے چھوڑ دیا، لیکن اگلے ہی روز پوسٹ مارٹم رپورٹ نے انکشاف کیا کہ خاتون کو گلا دبا کر قتل کیا گیا تھا اور قتل کے بعد لاش کے ساتھ جنسی زیادتی کے شواہد بھی ملے ہیں۔
مقتولہ کی شناخت فنگر پرنٹس کے ذریعے ہوئی جس کے مطابق اس کا نام وینڈی جورڈن تھا جس کی عمر 39سال تھی مقتولہ اس سے قبل بھی جسم فروشی کے متعدد مقدمات میں گرفتار ہوچکی تھی۔
پولیس نے اپنے طور پر ہرممکن کوشش کی لیکن کامیابی نہ مل سکی اور نہ ہی مسئلے کا کوئی سرا ملا کہ خاطر خواہ حل ہی نکل آئے۔ ماہرین کے مطابق لاشوں کو چھپانے کے بجائے کھلے عام چھوڑنا اس بات کا اشارہ تھا کہ قاتل خود بھی کسی حد تک گرفتار ہونا چاہتا تھا۔
وقتاً فوقتاً جن تین خواتین کی لاشیں ملیں ان کی شناخت 20 سالہ روبن براؤن 32 سالہ روز میری فیلٹ اور 34 سالہ کیلی ہوڈ کے طور پر ہوئی جو سب ماضی میں گرفتار ہوچکی تھیں۔
تفتیش میں ایک اہم موڑ اُس وقت آیا جب دو خواتین جو قاتل کے حملے سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئی تھیں وہ اچانک سامنے آئیں جنہوں نے بتایا کہ حملہ آور سفید فام شخص سرخ بالوں والا تھا، جیپ چلاتا تھا، اس کے بازو پر شیر کا ٹیٹو بنا ہوا تھا اور اس نے ’ایرک‘ نام کا بیج لگایا ہوا تھا۔
11اپریل کی رات پولیس نے ایک جیپ کو روکا، جس کے ڈرائیور کے بازو پر شیر کا ٹیٹو موجود تھا، اس نے اپنا نام جان ایرک آرمسٹرانگ بتایا۔
پولیس کی ابتدائی تفتیش کے دوران ایک خاتون نے اس کو باقاعدہ شناخت کیا اور دعویٰ کیا کہ یہی شخص اسے قتل کرنے کی کوشش کرچکا ہے۔
دوران تفتیش ڈی این اے کا ذکر کرنے پر ملزم نے آرمسٹرانگ نے اعتراف جرم کیا اور بتایا کہ وہ خواتین کو ساتھ لے جاتا، ان سے جنسی تعلق قائم کرتا اور پھر ہاتھوں یا ان کی ٹائٹس سے گلا دبا کر قتل کر دیتا۔ اس نے تسلیم کیا کہ وہ لاشوں کے ساتھ جنسی بد فعلی بھی کیا کرتا تھا۔
آرمسٹرانگ نے وینڈی جورڈن کے قتل کا بھی اعتراف کیا اور بتایا کہ چونکہ وہ اس وقت ریلوے ٹریک سے واقف نہیں تھا، اس لیے اس نے لاش کو پل سے دریا میں پھینک دیا۔
مزید برآں اس نے نیوی میں ملازمت کے دوران سنگاپور، تھائی لینڈ اور ہانگ کانگ میں بھی خواتین کے قتل کا اعتراف کیا، جس سے اس کی وارداتوں کی تعداد 20 تک جا پہنچی۔
مارچ 2001 میں جان ایرک آرمسٹرانگ کو وینڈی جورڈن کے قتل میں عمر قید کی سزا سنائی گئی، بعد ازاں دیگر مقدمات میں مزید عمر قید اور 31 سال قید کی سزائیں دی گئیں۔
ایک ایسا قاتل جس نے ڈیٹرائٹ کو برسوں تک خوف کے سائے میں رکھا، آج وہی 49 سالہ جان ایرک آرمسٹرانگ مشی گن کی جیل میں پانچ سزائیں کاٹ رہا ہے۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/9bZ8HYj
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں