امریکا میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف پہلی بار مقدمہ کی سماعت - نیوز شیوز

نیوز شیوز

یہ ویب سائٹ معیار پر مبنی روزانہ کی خبریں پیش کرتی ہے۔ خبریں قومی ، بین الاقوامی ، کھیلوں اور شوبز کے بارے میں ہیں۔ لہذا حتمی ، توثیق شدہ اور معیاری مواد کیلئے ملاحظہ کریں۔

Breaking

Home Top Ad

Responsive Ads Here

منگل، 10 فروری، 2026

امریکا میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف پہلی بار مقدمہ کی سماعت

لاس اینجلس : امریکا کی ایک عدالت میں پہلی بار ایسے مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا گیا جس میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کو فریق بنایا گیا ہے۔

مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ انسٹاگرام اور یوٹیوب جیسی ایپس کو ایک طرح سے نشہ آور بنائے جانے سے مقامی خاتون کی ذہنی صحت شدید متاثر ہوئی ہے۔

رؤئٹرز کی رپورٹ کے مطابق 20 سالہ کے جی ایم نامی ایک مدعیہ نے فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا پلیٹ فارمز اور یوٹیوب کی مالک گوگل (الفابیٹ) کے خلاف دعویٰ دائر کیا ہے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق مدعیہ کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے پرکشش ڈیزائنز نے کم عمری میں اسے ان ایپس کا عادی بنا دیا۔

مدعیہ کا الزام ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال نے اس میں ڈپریشن اور خودکشی جیسے خیالات کو پروان چڑھایا ہے، اس لیے وہ ان کمپنیوں کو اس کا ذمہ دار ٹھہرانا چاہتی ہے۔

اس حوالے سے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فیصلہ ٹیک کمپنیوں کے خلاف آتا ہے تو ریاستی عدالتوں میں اسی نوعیت کے دیگر مقدمات کے لیے راستہ ہموار ہوسکتا ہے اور صارفین کو پہنچنے والے نقصان سے متعلق صنعت کا قانونی دفاع کمزور پڑسکتا ہے۔

میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ کے مقدمے میں پیش ہونے کی توقع ہے، رپورٹ کے مطابق مذکورہ سماعت اگلے ماہ مارچ تک جاری رہ سکتی ہے۔

یہ مقدمہ اس بات کا بڑا امتحان سمجھا جا رہا ہے کہ آیا ٹیکنالوجی کمپنیاں بچوں اور نوجوانوں کو پہنچنے والے نقصان کی ذمہ دار ٹھہرائی جا سکتی ہیں یا نہیں۔

یاد رہے کہ اس عمل میں سوشل میڈیا کمپنیوں کے دفاع کا انحصار امریکا کے مواصلاتی ایکٹ کے سیکشن 230پر رہا ہے جو آن لائن پلیٹ فارمز کی حفاظت کرتا ہے کیوں کہ وہ تھرڈ پارٹی کا مواد شائع کرتے ہیں۔



from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/3PCMqWb

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں