ڈھاکہ : سابق وزیر اعظم حسینہ واجد کا تختہ الٹنے کے بعد بنگلہ دیش میں پہلے انتخابات اور ریفرنڈم کا انعقاد آج ہوگا۔
ووٹرز ملک میں تبدیلی کیلئے پر امید ہیں، بنگلہ دیش کی دو بڑی سیاسی جماعتوں بی این پی اور جماعت اسلامی میں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے، پولنگ صبح سات سے شام ساڑھے چار تک ہوگی۔
اس حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ووٹنگ میں نوجوان ووٹروں کا کردار سب سے اہم ہوگا، ووٹر لسٹ کا ایک چوتھائی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔
سابق حکومت کا تختہ بھی نوجوانوں کی تحریک نے الٹا تھا۔ لمحہ بہ لمحہ کوریج کیلئے اے آر وائی نیوز کی ٹیم ڈھاکہ میں موجود ہے۔ بنگلہ دیشی چیف ایڈوائزر نے ووٹرز سے باشعور انداز میں حقِ رائے دہی استعمال کرنے کی اپیل کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق شیخ حسینہ کی برطرفی کے بعد قائم ہونے والی عبوری حکومت نے گزشتہ سال نومبر میں چارٹر پر عمل درآمد کے حکم کی منظوری دیتے ہوئے کہا تھا کہ اہم تبدیلیوں کیلئے عوامی توثیق ضروری ہے۔
یاد رہے کہ سال2011 میں حسینہ حکومت نے ریفرنڈم کی شق ختم کردی تھی، تاہم ان کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد 2024 میں ہائی کورٹ نے اسے بحال کر دیا تھا۔
اس سے قبل تین ریفرنڈم ہوچکے ہیں۔ 1977 اور 1985 میں عوام سے اس وقت کے صدور اور ان کی پالیسیوں پر اعتماد کے بارے میں پوچھا گیا تھا جبکہ 1991 میں یہ سوال رکھا گیا تھا کہ آیا ملک صدارتی نظام سے واپس پارلیمانی جمہوریت کی طرف جانا چاہتا ہے یا نہیں۔ تینوں مواقع پر عوام نے بھاری اکثریت سے "ہاں” میں ووٹ دیا تھا۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/pGBX2xc
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں