ماں اور دو بیٹیاں گھر سے نکل کر اچانک غائب، ایسا کیا ہوا کہ پولیس بھی چکرا گئی - نیوز شیوز

نیوز شیوز

یہ ویب سائٹ معیار پر مبنی روزانہ کی خبریں پیش کرتی ہے۔ خبریں قومی ، بین الاقوامی ، کھیلوں اور شوبز کے بارے میں ہیں۔ لہذا حتمی ، توثیق شدہ اور معیاری مواد کیلئے ملاحظہ کریں۔

Breaking

Home Top Ad

Responsive Ads Here

پیر، 9 فروری، 2026

ماں اور دو بیٹیاں گھر سے نکل کر اچانک غائب، ایسا کیا ہوا کہ پولیس بھی چکرا گئی

45سال قبل اچانک غائب ہونے والی ماں اور دو کمسن بیٹیوں کا معمہ تاحال حل نہ ہوسکا، شوہر پر شک کے باوجود پولیس فرد جرم عائد کرنے سے گریزاں رہی۔

امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق شمالی کیلیفورنیا کے ہمبولٹ کاؤنٹی میں تقریباً 45 سال قبل ایک ماں اور اس کی دو ننھی بیٹیوں کے اچانک غائب ہونے کا واقعہ آج بھی سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔

اس عرصے کے دوران نہ ان تینوں کی لاشیں ملیں اور نہ ہی کوئی واضح سراغ پولیس کے ہاتھ لگا، ہمبولٹ کاؤنٹی پولیس نے گزشتہ سال 60 سے زائد ایسے افراد کی ٹائم لائن جاری کی تھی جو لاپتہ یا قتل ہوئے مگر ان کے کیس تاحال حل طلب ہیں۔

حکام اور مقامی حلقے اس امید کے ساتھ ان مقدمات کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں کہ شاید کبھی کوئی سچ کا سرا ہی سامنے آجائے۔ بقول فرانسیسی ڈرامہ نگار کہ ’ ایسا کوئی راز نہیں جسے وقت بے نقاب نہ کر دے۔‘

واقعہ کچھ یوں ہے کہ میری الزبتھ اسٹورٹ اپنے شوہر برائن اور دو بیٹیوں ’جیسی فلو اور فینی فاؤن‘ کے ساتھ ہنی ڈیو نامی دور افتادہ بستی میں رہتی تھیں۔ دونوں بچیاں سرخی مائل سنہرے بالوں والی ننھی عمر میں صرف ایک سال کے فرق سے تھیں۔

10دسمبر 1977 کی صبح تقریباً 10بجے میری اپنی بچیوں کو ساتھ لے کر گھر سے بازار کیلیے نکلیں، ان کا منصوبہ یہ تھا کہ قریبی قصبوں کپڑے دھونے، خریداری کرنے، ماہرِ چشم سے ملنے اور خراب ٹی وی کی مرمت کروا کر شام تک واپس لوٹ آئیں۔ بتایا گیا تھا کہ ان کے پاس تقریباً 200 ڈالر نقد بھی تھے لیکن وہ واپس نہ آئیں۔

اس واقعے کو تین دن گزر گئے، پولیس کو اطلاع اس کے شوہر برائن نے نہیں بلکہ میری کی ایک دوست نے دی۔ اس وقت تفتیش کاروں کے پاس شوہر سے متعلق بدنیتی یا جرم کا کوئی ثبوت نہیں تھا۔

مقامی اسپتالوں، ٹی وی مرمت کرنے والوں اور ماہرینِ چشم سے پوچھ گچھ کی گئی مگر کسی کو یاد نہیں تھا کہ میری وہاں آئی ہوں۔

اخبار ٹائمز اسٹینڈرڈ میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق ایک تفتیشی افسر نے کہا تھا ممکن ہے وہ خود ہی کہیں جانا چاہتی ہوں اور نہ چاہتی ہوں کہ اسے ڈھونڈا جائے۔

خاتون کے شوہر برائن کے تیز مزاج ہونے کی وجہ سے کئی افواہیں گردش کرنے لگیں، کرسمس بھی گزر گیا، مگر ان ماں بیٹیوں کا کوئی اتا پتا نہ ملا۔

گمشدگی کے واقعے کے تین ہفتے بعد برائن کو ایک علیحدہ مقدمے میں اقدامِ قتل کے الزام کے تحت گرفتار کیا گیا۔ اس پر الزام تھا کہ اس نے نیو ایئر کے موقع پر ایک پولیس اہلکار پر رائفل سے فائر کیا تھا، تاہم کوئی زخمی نہیں ہوا بعد ازاں ناکافی شواہد کی بنیاد پر مقدمہ ختم کردیا گیا۔

کہانی میں نیا موڑ

17جنوری 1978 کو یعنی اس وقعے کے 38 دن بعد ایک شخص کو میری کی سرخ 1969 اوپل اسٹیشن ویگن گھر سے تقریباً ایک میل دور ایک متروک جنگلاتی راستے پر کھڑی ملی۔ گاڑی کے اندر پرس، رقم، سامان، خریداری کا مال، دھلے ہوئے کپڑے اور مرمت شدہ ٹی وی موجود تھا اور گاڑی کی فیول لائن ٹوٹی ہوئی تھی۔

station wagon

پولیس سے اس بات سے اندازہ لگایا کہ شاید گاڑی خراب ہونے پر میری اپنی بچیوں کو لے کر پیدل گھر کی جانب چل پڑی ہو اور دشوار گزار علاقے میں کہیں راستہ بھٹک گئی ہوں۔ گھڑ سوار دستوں، کشتیوں، چار پہیوں والی ریسکیو ٹیموں اور حتیٰ کہ سنوما کاؤنٹی سے بلائے گئے شکاری کتوں کے باوجود تفتیش کاروں کوئی سراغ نہ ملا۔

یہاں سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا برائن کا اس واردات میں کوئی ہاتھ تھا؟ اگر یہ راستہ گھر کو جاتا تھا تو پہلے تلاش کیوں نہ کیا گیا؟ اگر عام راستہ نہیں تھا تو میری بچیوں کے ساتھ وہاں کیوں گئیں؟

اگر برائن کا اس واردات میں کوئی ہاتھ تھا بھی تو وہ راز اس کے ساتھ ہی دفن ہوگیا۔ برائن 1996 میں 48 سال کی عمر میں انتقال کرگیا تھا۔

کیس ری اوپن

2009میں پولیس نے اس مقدمے کی دوبارہ جانچ پڑتال کی اور کچھ نئے لوگوں کے انٹرویوز کے بعد تفتیش کار اس نتیجے پر پہنچے کہ ماں اور بچیاں ممکنہ طور پر قتل کا نشانہ بنیں۔

2018میں ایک پڑوسی نے دعویٰ کیا تھا کہ گمشدگی کے بعد برائن کا رویہ غیر معمولی تھا، وہ منشیات استعمال کر رہا تھا اور کہتا تھا کہ بیوی بچوں کو خلائی مخلوق لے گئی ہے۔

missing person family

اصل حقیقت کیا ہے؟

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ ایک پریشان حال شوہر کے ہاتھوں مارے گئے؟ یا برائن کی بعد کی زندگی دراصل اس صدمے کا نتیجہ تھی؟ یا دونوں باتیں ایک دوسرے سے بالکل الگ تھیں؟ یہ ایک ایسا معمہ جو اب شاید ہی حل ہوسکے۔

سرکاری طور پر برائن مرکزی ملزم کی طرح مشتبہ ہی رہا، مگر کبھی بھی اس پر فردِ جرم عائد نہ ہو سکی۔ صرف قیاس آرائیاں اور غلط فہمیاں جنم لے رہی ہیں اور متعلقہ حکام کی توجہ ان سب کی ممکنہ تدفین کے مقام کی تلاش پر مرکوز ہیں۔

50 سال قبل قتل ہونے والے بچوں اور خواتین کے قاتل کا سراغ کس طرح ملا؟



from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/LszpCg4

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں