ابوظبی: روس اور یوکرین کے درمیان یو اے ای میں ہونے والے مذاکرات کے بعد دونوں ممالک نے 300 سے زائد قیدیوں کا تبادلہ کیا ہے، تاہم ان مذاکرات کے دوران جنگ کے خاتمے کے لیے کسی بڑے معاہدے پر پیش رفت نہیں ہوسکی۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکا، روس اور یوکرین کے وفود کے درمیان ابوظبی میں ہونے والے دو روزہ مذاکرات کے دوران قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق کیا گیا تھا، جسے امریکی ثالث نے پانچ ماہ بعد ہونے والا پہلا بڑا قیدی تبادلہ قرار دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی نمائندے اسٹیو وِٹکوف کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ مجموعی طور پر 314 قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق کیا گیا، بعد ازاں روسی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی کہ دونوں جانب سے 157،157 قیدیوں کا تبادلہ کیا گیا۔
امریکی نمائندے نے مذاکرات کو مفصل اور مثبت قرار دیا، تاہم اُن کا کہنا تھا کہ جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے ابھی”اہم اور مشکل کام باقی ہے“۔ روسی مذاکرات کار کریل دمتریف نے بھی گفتگو میں پیش رفت کا دعویٰ کیا۔
دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے باوجود علاقائی تنازع پر کسی قسم کی پیش رفت نہیں ہوئی، نہ ہی روس کی جانب سے اپنے مطالبات میں نرمی کے آثار دکھائی دیے۔
اسی دوران روس کی جانب سے یوکرین کے توانائی کے نظام پر حملے جاری رہے، جس کے باعث شدید سردی میں کیف کے کئی علاقوں میں بجلی اور حرارت کی فراہمی معطل رہی۔
دنیا کی 2 بڑی ایٹمی طاقتوں کے درمیان ہتھیاروں کی روک تھام کا معاہدہ آج ختم ہو رہا ہے!
بدھ کے روز زیلنسکی نے اعتراف کیا کہ فروری 2022 میں جنگ شروع ہونے کے بعد اب تک کم از کم 55 ہزار یوکرینی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ روس نے اپنے جانی نقصانات کے اعداد و شمار جاری نہیں کیے۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/QTknaMK
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں