واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی جانب امریکی بحری بیڑا روانہ کیا، لیکن استعمال نہ کرنا بہتر ہوگا، امید ہے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی ضرورت پیش نہیں آئے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ مزید بات چیت کا ارادہ ہے، پہلے بھی ایران سے بات چیت ہو چکی ہے اور آئندہ بھی ہوگی۔
اُنہوں نے کہا کہ برطانیہ کے لیے چین کے ساتھ کاروبار کرنا بہت خطرناک ہے، جبکہ کینیڈا کے لیے چین کے ساتھ کاروبار کرنا اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ چین کے ساتھ بڑھتے تجارتی تعلقات پر اتحادیوں کو محتاط رہنا ہوگا۔
دوسری جانب یورپی یونین نے مظاہرین پرتشدد اور روس کی فوجی حمایت کے الزام میں ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔
برسلز میں ہونے والے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں ان پابندیوں کے ذریعے کریک ڈاؤن میں ملوث اعلیٰ ایرانی شخصیات اور اداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اجلاس میں ایرانی سپاہ پاسدارانِ انقلاب کو باقاعدہ طور پر دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے پر بھی سیاسی اتفاق رائے متوقع ہے، جس کے بعد اسے داعش اور القاعدہ کے برابر قرار دے دیا جائے گا۔
یورپی یونین نے ایرانی رہنماؤں پر پابندیاں لگا دیں
یورپی یونین کی ہائی ریپریزنٹیٹو نے اجلاس سے پہلے کہا تھا کہ ”اگر آپ دہشت گرد کی طرح کام کرتے ہیں تو آپ کو دہشت گرد کی طرح ٹریٹ کیا جائے گا”۔ انہوں نے IRGC کو دہشت گرد فہرست میں ڈالنے اور ایران کے مخصوص افراد/اداروں پر پابندیوں کی تصدیق کی تھی۔
واضح رہے کہ یہ پابندیاں یورپی یونین کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف ایران پر پہلے سے موجود پابندیوں کا توسیع ہیں، جو 2011 سے نافذ ہیں اور اب تک تجدید ہوتی رہی ہیں۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/cZtygIO
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں