بھارت میں توہم پرستی اور جہالت کا ایک افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، ایک شادی شدہ خاتون کو بھوت کے شبے میں لاٹھیاں مارمار کر ہلاک کردیا۔
سائنس کے اس جدید دور میں بھی اکثر اوقات انسان صدیوں پرانی توہم پرستی کا شکار نظر آتا ہے، ایسی ہی ایک لرزہ خیز داستان بھارت میں سامنے آئی ہے، جہاں ایک شادی شدہ عورت اپنی جان سے چلی گئی۔
متوفیہ کی عمر تقریباً 38 سال بتائی جاتی ہے، اس کی شادی کو تقریباً 10 برس ہوچکے ہیں اور اس کا ایک پانچ سالہ بیٹا بھی ہے، خاتون حال ہی میں تہوار منانے کے بعد اپنے والدین کے گھر سے واپس سسرال پہنچی تھی۔
پولیس اور اہلِ خانہ کے مطابق گزشتہ روز خاتون اچانک بے ہوش ہو کر گرگئی، جس پر سسرال والوں نے شبہ ظاہر کیا کہ اس پر کسی بھوت کا سایہ ہے اسی شبے کو بنیاد بنا کر اسے کم سن بیٹے کے سامنے بے دردی سے مارا پیٹا گیا۔
رپورٹس کے مطابق متوفیہ کی والدہ نے سسرال والوں کو سمجھانے کی کوشش کی کہ اس کی بیٹی پر کوئی بھوت نہیں ہے اور اسے تشدد کا نشانہ نہ بنایا جائے، تاہم مبینہ طور پر حملہ پھر بھی جاری رکھا گیا۔
بعد ازاں حالت بگڑنے پر خاتون کو کلبرگی کے مقامی مندر لے جایا گیا، دریائے سنگاما میں نہلایا گیا اور مذہبی رسومات ادا کی گئیں۔
بے پناہ تشدد اور جسمانی کمزوری کے باعث خاتون کی حالت مزید بگڑتی چلی گئی، جس پر اسے فوری طور پر کلبرگی کے جی آئی ایم ایس اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں سر پر شدید چوٹوں کے باعث وہ دورانِ علاج جاں بحق ہوگئی۔
متوفیہ کی بہن نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کی بہن پر کوئی بھوت پریت کا سایہ نہیں تھا بلکہ سسرال والوں نے تشدد کرکے اسے قتل کیا ہے۔ انہوں نے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
علاقہ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرلیا ہے اور کیس کو مزید کارروائی کے لیے مہاراشٹر پولیس اسٹیشن منتقل کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/iPqL67Q
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں