الاسکا سربراہی اجلاس میں روسی صدر پیوٹن کی تجاویز سامنے آگئیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے یوکرین جنگ بندی کے حوالے سے ہونے والی ملاقات کے موقع پر صدر پیوٹن نے تجویز دی کہ یوکرین کو ڈونباس چھوڑنا ہو گا۔
یوکرین کو نیٹورکنیت سے دستبردار ہونا ہو گا۔
یوکرین کو غیرجانبداری قبول کرنا ہو گی۔
مغربی فوجیوں کی تعیناتی پر پابندی لگانی ہو گی۔
بدلے میں روس خیرسون، زاپوریژیا میں محاذ منجمد کر دے گا۔
روس دیگر مقامات پر حاصل فتوحات سے دستبردار ہو جائےگا۔
فاکس نیوز کے مطابق یوکرین کے ساتھ امن معاہدے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی رہنما ولادیمیر پیوٹن کی اس تجویز کی حمایت کی ہے کہ ماسکو کو ڈونباس کے علاقے کا مکمل کنٹرول سنبھالنے دیا جائے، اس کے بدلے روس باقی علاقے چھوڑ دے گا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق صدر ٹرمپ نے یورپی رہنماؤں سے فون پر کہا کہ اگر یوکرینی صدر ڈونباس چھوڑنے کے لیے تیار ہیں تو امن معاہدے پر بات چیت ہو سکتی ہے، اے ایف پی نے بھی رپورٹ کیا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ملاقات میں صدر ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ یوکرین ڈونباس کو چھوڑ دے۔
الاسکا میں جمعہ کے روز پیوٹن سے ملاقات کے بعد، ٹرمپ نے یورپی اتحادیوں کو بتایا کہ روسی صدر نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ کلیدی لوہانسک اور ڈونیٹسک خطے چاہتے ہیں، اور زاپوریژیا اور کھیرسن میں میں جنگ ختم کرنے اور اگلے مورچے خالی کرنے پر آمادہ ہیں۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/SCm7xOl
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں