ایران نے جوہری پروگرام پر سفارتی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے حامی بھرلی۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کو لکھے گئے خط میں زور دیا ہے کہ دیگر فریق بھی سنجیدگی اور خیرسگالی کا مظاہرہ کریں۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ نے اپنے خط میں کہا کہ جوہری پروگرام پر سفارتی مذاکرات کی بحالی کا انحصار اس بات پر ہے کہ فریقین سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جس سے کامیابی کے امکانات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔
اس سے قبل وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کی واپسی کا مطلب مکمل تعاون کی بحالی نہیں ہے۔
روس مذاکرات کی میز کے بجائے بیلسٹک میزائل کو ترجیح دیتا ہے، یوکرینی صدر
وزیر خارجہ نے بدھ کے روز کہا تھا کہ IAEA کے معائنہ کار ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کی رضامندی سے ایران میں داخل ہوئے ہیں۔
عباس عراقچی کا سرکاری نشریاتی ادارے کے حوالے سے تبصرے میں کہنا تھا کہ آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون کے نئے فریم ورک پر ابھی تک کوئی حتمی متن منظور نہیں ہوا ہے اور خیالات کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/qAXojUv
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں