’ قومی ٹیم میں 7 تبدیلیاں : سینئر کرکٹرز سے یہ برتاؤ ناانصافی ہے‘ - نیوز شیوز

نیوز شیوز

یہ ویب سائٹ معیار پر مبنی روزانہ کی خبریں پیش کرتی ہے۔ خبریں قومی ، بین الاقوامی ، کھیلوں اور شوبز کے بارے میں ہیں۔ لہذا حتمی ، توثیق شدہ اور معیاری مواد کیلئے ملاحظہ کریں۔

Breaking

Home Top Ad

Responsive Ads Here

بدھ، 2 ستمبر، 2026

’ قومی ٹیم میں 7 تبدیلیاں : سینئر کرکٹرز سے یہ برتاؤ ناانصافی ہے‘

لاہور : کرکٹ تجزیہ کار شاہد ہاشمی انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران قومی ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کے فیصلے پر برس پڑے، ان کا کہنا ہے کہ سینئر کرکٹرز سے ایسا برتاؤ سراسر ناانصافی ہے۔

اے آر وائی نیوز کے نمائندہ خصوصی نے پروگرام باخبر سویرا میں گفتگو کرتے ہوئے پی سی بی کے فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک میچ باقی ہوتے ہوئے سینئر کھلاڑیوں، ہیڈ کوچ اور بولنگ کوچ کو ہٹانے کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

شاہد ہاشمی نے کہا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی حالیہ کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے، تاہم سیریز کے دوران اس بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کرنا بھی قابلِ فہم نہیں۔

ان کے مطابق کسی سیریز میں دو، تین یا چار کھلاڑیوں کا انجری کے باعث باہر ہونا معمول کی بات ہے، لیکن ایک میچ باقی ہوتے ہوئے ایک نہ دو بلکہ پورے 7 کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف میں تبدیلی غیر معمولی اور عقل سے عاری فیصلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے محمد رضوان، سلمان علی آغا، امام الحق، علی عثمان، عامر جمال، ظفر اور خرم شہزاد کو ٹیم سے ریلیز کردیا، جبکہ کوچنگ اسٹاف میں سرفراز احمد اور عمر گل کو بھی ہٹا دیا گیا۔

شاہد ہاشمی نے خاص طور پر سینئر کھلاڑیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے اس رویے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ سلمان علی آغا اس وقت ٹی 20 ٹیم کے کپتان ہیں اور انہوں نے پہلے ٹیسٹ میں بھی قیادت کی، لیکن دوسرے ٹیسٹ میں انہیں باہر بٹھا دیا گیا اور اب تیسرے ٹیسٹ کے لیے بھی ٹیم سے الگ کردیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ محمد رضوان بھی قومی ٹیم کے سینئر کھلاڑی ہیں، اگر چار اننگز میں ان کے بیٹ سے صرف 65 رنز بنے تو اس کارکردگی پر تنقید ہوسکتی ہے، لیکن اس بنیاد پر سینئر کھلاڑی کے ساتھ اس انداز کا برتاؤ مناسب نہیں۔

شاہد ہاشمی نے کہا کہ ایک ٹیسٹ کے لیے 7کھلاڑیوں کو تبدیل کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پہلے کی گئی سلیکشن میں بھی سنگین غلطیاں تھیں، ان کے مطابق اگر پوری سلیکشن تبدیل کرنا پڑ رہی ہے تو سلیکشن کمیٹی کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھنا چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں کرکٹ تجزیہ کار نے تیسرے ٹیسٹ کے لیے شامل کیے جانے والے کھلاڑیوں پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نئے شامل ہونے والے 7 کھلاڑیوں میں سے بیشتر کو ٹیسٹ کرکٹ کا تجربہ ہی نہیں، جس کے باعث انگلینڈ کے خلاف اہم میچ میں ان سے بڑی کارکردگی کی توقع کرنا مشکل ہوگا۔

شاہد ہاشمی نے کہا کہ صائم اور عرفات منہاس کے علاوہ بیشتر نئے کھلاڑیوں کے پاس ٹیسٹ کرکٹ کا خاطر خواہ تجربہ نہیں، جبکہ رضا اللہ اور محمد عمران جونیئر نے بھی محدود فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اچانک اتنی بڑی تعداد میں نئے کھلاڑیوں کو شامل کرنا ایسے وقت میں خطرناک ہوسکتا ہے جب پاکستان پہلے ہی سیریز میں دباؤ کا شکار ہے۔

امام الحق کی مبینہ انجری کے معاملے کی تحقیقات سے متعلق ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی بہت سخت انداز میں تفتیش ہونی چاہیے، امام الحق کی انجری سے متعلق سابقہ واقعات بھی سامنے لائے جاسکتے ہیں اور اگر یہ ثابت ہوا کہ کسی موقع پر جعلی انجری ظاہر کی گئی ہے تو ان کے خلاف کارروائی یا پابندی بھی لگ سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کے اندر سے ناکامی کے خوف کو ختم کرنا ہوگا، کیونکہ اس سے بچنے کے لیے انجری یا دیگر بہانوں کا سہارا لینا پاکستان کرکٹ کے لیے نقصان دہ ہے۔

پروگرام کے آخر میں شاہد ہاشمی نے پاکستان میں کرکٹ کے حوالے سے نوجوان نسل کی بدلتی دلچسپی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی ٹیم کی مسلسل مایوس کن کارکردگی کے باعث نوجوانوں میں کرکٹ کے حوالے سے دلچسپی کم ہورہی ہے اور وہ تیزی سے فٹبال کی جانب متوجہ ہورہے ہیں۔

پاکستانی اسکواڈ میں بڑی تبدیلیاں، 7 کھلاڑیوں کی وطن واپسی



from 2 کھیل Archives - ARYNews.tv | Urdu - Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/GOD3omQ

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں