پیوٹن اور ٹرمپ کے درمیان ڈیزل معاہدے میں کیا ہے؟ - نیوز شیوز

نیوز شیوز

یہ ویب سائٹ معیار پر مبنی روزانہ کی خبریں پیش کرتی ہے۔ خبریں قومی ، بین الاقوامی ، کھیلوں اور شوبز کے بارے میں ہیں۔ لہذا حتمی ، توثیق شدہ اور معیاری مواد کیلئے ملاحظہ کریں۔

Breaking

Home Top Ad

Responsive Ads Here

منگل، 13 اکتوبر، 2026

پیوٹن اور ٹرمپ کے درمیان ڈیزل معاہدے میں کیا ہے؟

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو کے بعد روس سے ڈیزل کی درآمد کا معاہدہ طے پایا ہے۔

معاہدے کی تفصیل کے مطابق روس فوری طور پر امریکہ اور عالمی منڈی کے لیے 3 لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کرے گا جبکہ ٹرمپ کے مطابق روس نومبر میں مزید 5 لاکھ ٹن ڈیزل بھی فوری طور پر فراہم کرے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے روسی ڈیزل کی برآمدات پر عائد پابندیاں نرم کرنے اور روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کی کوششیں تیز کردی ہیں۔ روسی ریفائنریوں کو یوکرینی حملوں سے پہنچنے والے نقصان اور تیل بردار جہازوں کی دستیابی جیسے مسائل اس منصوبے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

روس کتنے ڈیزل کی فراہمی کرے گا؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گٓزشتہ جمعہ کو اعلان کیا کہ روس فوری طور پر امریکی اور عالمی منڈیوں کو 3 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ ڈیزل فراہم کرے گا، جو تقریباً 22 لاکھ 50 ہزار بیرل کے برابر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس نومبر میں مزید 5 لاکھ ٹن اور اس کے بعد فوری طور پر مزید 10 لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کرے گا۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے اعداد و شمار کے مطابق امریکا کے ٹرانسپورٹ سیکٹر میں روزانہ تقریباً 29 لاکھ 40 ہزار بیرل ڈیزل استعمال ہوتا ہے۔

اس حساب سے روس کی ابتدائی کھیپ امریکی ٹرانسپورٹ سیکٹر کی ایک دن کی ضرورت سے بھی کم ہے، جبکہ بعد میں اعلان کردہ مقدار مجموعی طور پر بھی امریکا کی طلب کے مقابلے میں محدود ہے۔

روسی ڈیزل کی برآمدات میں رکاوٹیں

امریکا کی جانب سے روسی ڈیزل کی برآمدات پر پابندیاں اٹھانے کے باوجود یہ واضح نہیں کہ ایندھن کی ترسیل کے لیے کون سے تیل بردار جہاز استعمال کیے جائیں گے، کیونکہ متعدد جہاز اب بھی پابندیوں کی زد میں ہیں۔

اس کے علاوہ یوکرین کے ڈرون حملوں کے باعث روسی آئل ریفائنریوں کو پہنچنے والے نقصان نے بھی پیداواری صلاحیت متاثر کی ہے۔

صنعتی ذرائع کے مطابق یوکرین کی جانب سے روسی ریفائنریوں پر حملے رکنے کی صورت میں ماسکو ٹرمپ کی جانب سے ابتدائی طور پر طلب کردہ تین لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر یورپی حصے میں واقع روس کی ایک بڑی آئل ریفائنری جسے ڈرون حملوں میں نقصان پہنچا تھا، دوبارہ کام شروع کردے تو روس رواں ماہ ہی تین لاکھ ٹن ڈیزل پیدا کرسکتا ہے۔

روس یوکرین کے ریفائنریوں پر حملوں سے قبل روزانہ تقریباً ایک لاکھ ٹن ڈیزل برآمد کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ تاہم، مقامی ضروریات پوری کرنے کے لیے روس نے جولائی سے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کردی تھی۔

بعد ازاں ان ممالک کو بھی برآمدات روکنے کا فیصلہ کیا گیا جن کے ساتھ دوطرفہ معاہدے موجود نہیں تھے، یہ پابندی 31 اکتوبر تک برقرار رکھنے کا اعلان کیا گیا، جبکہ وسطی ایشیا کے بعض دوست ممالک کو برآمدات جاری رہیں۔

روس کی معیشت کو کتنا فائدہ ہوگا؟

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے مطابق یوکرین کے حملوں سے روسی آئل ریفائنریوں کو پہنچنے والے نقصان کے باعث ملکی معیشت کو مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً ایک فیصد کے برابر نقصان اٹھانا پڑا، رائٹرز کے حساب کے مطابق یہ رقم تقریباً 26 ارب 60 کروڑ ڈالر بنتی ہے۔

اس کے مقابلے میں 3 لاکھ ٹن ڈیزل کی برآمد سے روس کو تقریباً 40 کروڑ ڈالر حاصل ہوسکتے ہیں، تاہم اس رقم کا صرف ایک محدود حصہ روسی سرکاری خزانے میں جائے گا، کیونکہ روس میں بنیادی طور پر تیل کی پیداوار پر ٹیکس عائد کیا جاتا ہے، نہ کہ تیل اور ایندھن کی برآمدات پر۔

روس میں تقریباً 30 بڑی آئل ریفائنریاں ہیں، جبکہ یوکرین میں اس وقت کوئی بھی ریفائنری فعال نہیں ہے۔

روس اور یوکرین کا ردعمل

ماسکو نے ہفتے کو اعلان کیا کہ جولائی سے نافذ ڈیزل کی برآمدات پر پابندی جزوی طور پر فوری طور پر ختم کی جارہی ہے۔

دوسری جانب یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے خبردار کیا کہ روس کے ساتھ ڈیزل کی فراہمی کا معاہدہ ماسکو کو یوکرین پر حملے مزید تیز کرنے کی شہ دے سکتا ہے، جس کے نتیجے میں مزید انسانی جانیں ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔

امریکا میں بھی ٹرمپ کے فیصلے کو تنقید کا سامنا ہے، ان کے اپنے ریپبلکن پارٹی کے رکن کانگریس ڈان بیکن نے کہا کہ روس پر پابندیاں اٹھانے کے بجائے مزید پابندیاں عائد کرنے کا وقت ہے،خصوصاً ایسے میں جب کانگریس نے حال ہی میں نئی پابندیاں منظور کی ہیں۔

برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے کہا کہ ان کا ملک روس پر پابندیاں مزید سخت کرے گا، جرمنی کے وزیر خارجہ نے بھی یوکرینی قیادت کی حمایت کا اعادہ کیا اور روس پر زور دیا کہ وہ امن مذاکرات کی بحالی کے لیے دباؤ قبول کرے۔

روس نے پیر کو کہا ہے کہ جنگ بندی سے متعلق مذاکرات جاری ہیں، تاہم اس نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا یہ مذاکرات صرف آئل ریفائنریوں پر حملے روکنے تک محدود ہیں یا ان کا دائرہ وسیع ہے۔

 چین کی برآمدات اور مشرق وسطیٰ کی جنگ 

عالمی ڈیزل منڈی پر دباؤ کی ایک وجہ روسی برآمدات میں مشکلات ہیں، جبکہ ایران کی جنگ نے خلیجی ممالک سے ایندھن کی فراہمی بھی متاثر کی ہے۔

رائٹرز کے مطابق چین گولڈن ویک کی تعطیلات کے دوران مختصر وقفے کے بعد صاف شدہ ایندھن کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے والا ہے۔

تاہم اکتوبر کے لیے ڈیزل، پٹرول اور جیٹ فیول کی منظور شدہ برآمدات تقریباً 37 لاکھ میٹرک ٹن ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم اور ستمبر کے لیے منظور شدہ 40 لاکھ ٹن سے بھی کم ہیں۔

 عالمی ذخائر سے ایندھن کی فراہمی

ایندھن کی قلت اور قیمتوں میں اضافے پر قابو پانے کے لیے جی سیون ممالک نے حال ہی میں اپنے ذخائر سے ایندھن جاری کرنے پر اتفاق کیا تھا، جس میں عالمی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) رابطہ کاری کررہی ہے۔

32رکن ممالک پر مشتمل آئی ای اے نے مارچ میں خام تیل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کے 40 کروڑ بیرل سے زیادہ ذخائر جاری کرنے کی تاریخ کی سب سے بڑی ہنگامی کارروائی میں رابطہ کاری کی تھی۔

ایجنسی نے حال ہی میں شریک ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے ذخائر سے وہ مقدار بھی عالمی منڈی میں فراہم کریں جو اب تک جاری نہیں کی گئی۔

مجموعی طور پر روسی ڈیزل کی اضافی فراہمی امریکا اور عالمی منڈی کو کچھ ریلیف دے سکتی ہے، لیکن امریکی طلب کے مقابلے میں اس کی مقدار محدود ہے۔

ریفائنریوں کی بحالی، برآمدی پابندیوں کی عملی صورت حال، چین کی کم ہوتی برآمدات اور مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث پیدا ہونے والی غیر یقینی صورت حال طے کرے گی کہ اس ڈیل سے ڈیزل کی قیمتوں میں کتنی کمی آسکتی ہے۔

 



from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/o261F0n

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں