لندن: فئیر فورڈ ائیربیس دہشت گردی کی منصوبہ بندی سے متعلق معاملے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ 3 گاڑیوں سے دھماکاخیز مواد نہیں ملا اور ان گاڑیوں میں صرف پیٹرول برآمد ہوا تھا، واقعہ کی مزید تفتیش کل تک بند ہو جائے گی۔
دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے شبہ میں 5 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جنہیں ضمانت پر رہا کیا گیا ہے۔
لندن پولیس کے مطابق پانچوں افراد کے خلاف تاحال باضابطہ فردجرم عائد نہیں کی گئی جس کے باعث ملزمان کی عدالت پیشی کی کوئی تاریخ مقرر نہیں ہوئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ پانچوں افراد برطانوی شہری اور لندن کے رہائشی ہیں جنہیں ضمانت پر رہا کیا گیا ہے۔
برطانوی پولیس سربراہ لارنس ٹیلر کا کہنا ہے کہ پانچوں افراد کو پوچھ گچھ اور تحقیقات کے بعد سخت شرائط پر رہا کیا گیا تاہم پانچوں افراد اب بھی زیرتفتیش ہیں۔
روئٹرز کے مطابق پولیس اہلکاروں نے اتوار کی صبح ان پانچ افراد کو اُس وقت حراست میں لیا تھا، جب انھیں اطلاع ملی تھی کہ تین بڑی سفید وینیں مغربی انگلینڈ میں واقع فوجی ہوائی اڈے ’آر اے ایف فیئرفورڈ‘ کی طرف جاتی دیکھی گئی ہیں۔
ایک مقامی خاتون کسان نے میڈیا کو بتایا کہ اس نے ’’نقاب پوش اور سر ڈھانپے ہوئے افراد‘‘ کے ایک گروپ کو کھیتوں کی طرف بھاگتے دیکھنے کے بعد پولیس کو اطلاع دی تھی۔
برطانوی انسدادِ دہشت گردی کے تفتیش کاروں نے ابھی تک عوامی طور پر یہ نہیں بتایا کہ ان کے خیال میں اس واقعے میں ملوث افراد کون ہیں، اور وہ کیا کرنا چاہتے تھے۔ تاہم تحقیقات میں ایران سے وابستہ کسی مقصد کو سب سے زیادہ ممکنہ سمجھا جا رہا ہے، جب کہ روسی تخریب کاری کی کارروائی یا کسی اسلامی شدت پسند سازش کو بھی ممکنہ پہلوؤں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/8uWABeT
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں