نیویارک: ایران اور یوکرین نے باہمی کشیدگی کم کرنے اور رابطے کے موجودہ ذرائع کھلے رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
نیویارک میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی اپنے یوکرینی ہم منصب سے ملاقات ہوئی، یوکرینی وزیر خارجہ نے ملاقات کی تصویر بھی ایکس پر شیئر کی، اور لکھا کہ سفارت کاری مشکل حالات میں بھی براہِ راست بات چیت کا نام ہے۔
دونوں رہنماؤں میں گفتگو کا محور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے باہمی اقدامات تھے۔ یوکرینی وزیر خارجہ آندری سیبیہا نے کہا ہم نے موجودہ رابطہ ذرائع کھلے رکھنے پر اتفاق کر لیا ہے۔
Following up on our July telephone call, I met with @araghchi on the sidelines of the 81st session of the UN General Assembly.
Diplomacy is about direct conversation, even in challenging circumstances.
Our conversation focused on mutual steps to prevent further aggravation of… pic.twitter.com/wVnPBTIR2Y
— Andrii Sybiha
(@andrii_sybiha) September 23, 2026
ان کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کی صورت حال اور جاری امن کوششوں پر بھی تبادلۂ خیال ہوا اور یوکرین نے دونوں خطوں میں امن و استحکام کی بحالی کی حمایت کا اظہار کیا۔
امریکا اور ایران میں برف پگھلنے لگی، دوسری ملاقات کی اہمیت بڑھ گئی
یاد رہے کہ جولائی 2026 میں یوکرین کی جانب سے بحیرہ کیسپین میں ایک ایرانی بحری جہاز کو نشانہ بنائے جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ایک نیا اور براہ راست تنازع پیدا ہو گیا ہے۔
27 جولائی کو ایران کے وزیرِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے ایک ایرانی تجارتی جہاز پر حملہ کر کے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کی ہے۔ انھوں نے ایکس پر اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ یہ حملہ اسرائیل کے ایما پر کیا گیا تاکہ یورپ کو اس کی جنگ میں گھسیٹا جا سکے۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/OdsxJMb
(@andrii_sybiha)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں