ٹورنٹو : کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے اونٹاریو کے شہر بیویل میں "سنز آف جیکب” یہودی عبادت گاہ کے باہر فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔
فائرنگ کا یہ واقعہ گزشتہ روز شام ’یوم کپر‘ کے مقدس موقع پر عبادت کے دوران پیش آیا، جس میں ایک پولیس اہلکار سمیت دو افراد زخمی ہوئے۔
وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ یہودی برادری کو اپنی عبادت اور زندگی مکمل آزادی اور سلامتی کے ساتھ گزارنے کا پورا حق حاصل ہے۔
کینیڈا حکومت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مکمل حمایت اور مجرم کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا اعلان کیا ہے۔
اونٹاریو کی اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں ایک 29 سالہ شخص اور بیلے وِل پولیس کا ایک اہلکار زخمی ہوئے۔ اہلکار کی حالت خطرے سے باہر جبکہ 29 سالہ شخص کی حالت کافی تشویشناک بتائی گئی ہے۔
مقامی حکام کے مطابق فائرنگ تقریباً شام 7 بجے بیلے وِل کے وکٹوریہ اور بلیکر ایونیو کے قریب ہوئی۔ پولیس اہلکار کا ایک شخص سے سامنا ہوا جس کے بعد فائرنگ کا تبادلہ ہوا، واقعے کی تحقیقات اونٹاریو کی اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کر رہی ہے۔
اونٹاریو کے وزیراعلیٰ کی بھی مذمت
اونٹاریو کے وزیراعلیٰ ڈگ فورڈ نے بھی فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہودی برادری کو محفوظ ماحول میں جمع ہونے اور عبادت کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔
دوسری جانب ٹورنٹو پولیس نے احتیاطی اقدام کے طور پر یہودی عبادت گاہوں سمیت دیگر مذہبی مقامات کے اطراف گشت بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔
ابتدائی تحقیقات میں فائرنگ کے محرکات واضح نہیں کیے گئے اور حکام نے ابھی یہ تصدیق نہیں کی کہ عبادت گاہ یا یہودی برادری کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا تھا۔
یہودیوں کا دیوار گریہ پر اجتماع، متعدد صہیونی مسجد اقصیٰ میں بھی داخل
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/AWXamxD
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں