ایتھنز : قدیم یونانی شہر میزا میں تقریباً 24 سو سال پرانا وہ تاریخی اسکول دریافت ہوا ہے جہاں فلاسفر ارسطو نے نو عمر سکندر اعظم کو تعلیم دی تھی۔
ماہرین آثارِ قدیمہ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں مقدونی بادشاہ سکندر اعظم اور ان کے استاد عظیم یونانی فلسفی ارسطو کی تاریخی درسگاہ کے آثار مل گئے ہیں، اس تاریخی مقام سے چار قلم، پتھر کی میزیں اور موزائیک فرش دریافت ہوا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ مقام شمالی یونان کے قدیم شہر میزا میں دریافت ہوا ہے اور اس کی تاریخ چوتھی صدی قبل مسیح سے بتائی جارہی ہے۔
یونان کی وزارتِ ثقافت کے مطابق کھدائی کے دوران سامنے آنے والے آثار میں ایک وسیع عمارت کا کمپلیکس شامل ہے، جس میں لیکچر ہال، پتھر سے بنے مطالعاتی ڈیسک، دو ضیافتی ہال، ایک اسٹیڈیم، کھیلوں کا میدان اور ستونوں سے مزین ایک ڈھکا ہوا برآمدہ شامل ہے، عمارت کے مختلف حصوں میں خوب صورت موزائیک فرش بھی دریافت ہوئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ضیافتی ہالوں میں بلند پلیٹ فارم بنے ہوئے تھے جہاں تقریباً ایک درجن نشستیں یا صوفے رکھے جاسکتے تھے۔ کھدائی کے دوران اس مقام سے مٹی کے برتنوں اور قدیم سکوں کے علاوہ چار تحریری اسٹائلَس بھی ملے ہیں، جو ممکنہ طور پر طلبہ تحریر اور تعلیم کے لیے استعمال کرتے تھے۔
اس عمارت کا قدیم طرزِ تعمیر بھی خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس میں استعمال ہونے والے انداز اور تعمیراتی خصوصیات قدیم شہر ایگائی کے شاہی محل سے مشابہ ہیں، ایگائی وہی مقام تھا جہاں مقدونی بادشاہ فلپ دوم اور ان کے بیٹے سکندر اعظم قیام کرتے تھے۔
قدیم یونان میں ایسی درسگاہوں کو ’جمنازیم‘ کہا جاتا تھا، جہاں طلبہ کو صرف علمی تعلیم ہی نہیں دی جاتی تھی بلکہ جسمانی تربیت بھی ان کے نصاب کا حصہ ہوتی تھی۔
یونیورسٹی آف نیبراسکا اوماہا کی محقق جین ریمز نے بھی دستیاب شواہد کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مقام اس درسگاہ سے مطابقت رکھتا ہے جسے فلپ دوم نے اپنے بیٹے اور دیگر نوجوان اشرافیہ کے لیے فراہم کیا تھا۔
یونیورسٹی آف نیوکاسل کی الزبتھ بینہم نے بھی عمارت کی شان و شوکت کو فلپ دوم کی دولت اور شاہی حیثیت سے مطابقت رکھنے والا قرار دیا۔
میزا قدیم مقدونیہ کے دارالحکومت پیلا سے تقریباً 43 کلومیٹر دور تھا، اس لیے کسی ہنگامی صورتِ حال میں شاہی خاندان کے افراد نسبتاً محفوظ مقام کی طرف منتقل ہوسکتے تھے۔
بینہم کے مطابق سکندر اعظم انتہائی ذہین تھا اور اسے ارسطو جیسے عظیم فلسفی سے حاصل ہونے والی تعلیم نے اس کی فکری تربیت میں اہم کردار ادا کیا ہوگا۔
تاہم تمام ماہرین اس دریافت کو حتمی طور پر سکندر اعظم کی درسگاہ قرار دینے سے قبل مزید شواہد کے منتظر ہیں۔
from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/hO0q8um
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں