گرمی نے یورپی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا، کاروبار تباہ - نیوز شیوز

نیوز شیوز

یہ ویب سائٹ معیار پر مبنی روزانہ کی خبریں پیش کرتی ہے۔ خبریں قومی ، بین الاقوامی ، کھیلوں اور شوبز کے بارے میں ہیں۔ لہذا حتمی ، توثیق شدہ اور معیاری مواد کیلئے ملاحظہ کریں۔

Breaking

Home Top Ad

Responsive Ads Here

پیر، 17 اگست، 2026

گرمی نے یورپی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا، کاروبار تباہ

لندن / میلان : یورپ میں شدید گرمی کے سبب کاروبار تباہ ہوگئے، تاجروں کو بھاری مالیت کے نقصانات کا سامنا ہے، ہیٹ ویو نے یورپی معیشت کو 43 ارب یورو کا جھٹکا دے دیا۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یورپ میں حالیہ برسوں کے دوران شدید ترین گرمی (ہیٹ ویو) کے باعث معیشت اور کاروباری شعبے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے نے سپلائی چین سے لے کر لیبر مارکیٹ تک ہر چیز کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یورپ اس سال شدید گرمی کی پانچویں لہر کی لپیٹ میں ہے، بلند درجہ حرارت کے باعث عوام کے اخراجات میں کمی، کارکنوں کی پیداواری صلاحیت متاثر ہونے اور کاروباری اخراجات میں اضافے سے مختلف شعبے دباؤ کا شکار ہیں۔

اٹلی کے شہر پادوا میں گرمی نے شام کے وقت ہونے والے کاروبار مزاکز کو بھی متاثر کیا ہے۔ عام طور پر لوگ شام 6 سے 7 بجے کے درمیان کیفے اور ریستورانوں میں بیٹھ کر وقت گزارا کرتے تھے، تاہم شدید گرمی کے باعث لوگ اب ایئر کنڈیشنڈ مقامات کو ترجیح دے رہے ہیں۔

شہر اور اس کے صوبے میں تقریباً 600 ہوٹلوں، کیفے اور دیگر مہمان نوازی کے کاروباروں کے سروے میں 80 فیصد سے زائد اداروں نے حالیہ ہیٹ ویو کے دوران تقریباً 20 فیصد کاروباری آمدن میں کمی کی اطلاع دی۔

موڈیز کے اندازے کے مطابق گزشتہ موسم گرما میں یورپ میں ہیٹ ویوز کے باعث معاشی پیداوار کو تقریباً 43 ارب یورو کا نقصان ہوا، جبکہ ان نقصانات کے مقابلے میں صرف تقریباً 500 ملین یورو کی انشورنس ادائیگیاں ہوئیں۔

ماہرین کے مطابق شدید گرمی روایتی انشورنس کے لیے ایک مشکل خطرہ ہے کیونکہ سیلاب یا طوفان کے برعکس گرمی عموماً عمارتوں اور املاک کو براہِ راست تباہ نہیں کرتی بلکہ کاروباری سرگرمیوں میں بالواسطہ خلل پیدا کرتی ہے۔

مارش کی کلائمیٹ اور سسٹین ایبلٹی ماہر سونیا سرمنسکی کے مطابق شدید گرمی روایتی طور پر بیمہ شدہ خطرات میں شامل نہیں، تاہم اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کاروباری رکاوٹ کے مالی اثرات دیگر قدرتی آفات جتنے ہی سنگین ہوسکتے ہیں۔

شدید گرمی کے باعث ٹرینوں کی آمدورفت متاثر، زرعی پیداوار میں کمی اور فیکٹریوں میں کولنگ کے اخراجات میں اضافہ ہورہا ہے۔ طویل عرصے تک بلند درجہ حرارت کارکنوں کی کارکردگی کو بھی متاثر کررہا ہے۔

یورپ دنیا کا تیزی سے گرم ہونے والا براعظم ہے، ماحولیاتی ڈیٹا کے مطابق 11 اگست کو مغربی یورپ کا اوسط درجہ حرارت 1961 سے 1990 کے اوسط کے مقابلے میں تقریباً 10 ڈگری زیادہ رہا۔



from ARY News Urdu- International- عالمی خبریں https://ift.tt/vlZqEKi

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں